’کار ساز ادارے بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث‘ | معاشرہ | DW | 15.11.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

’کار ساز ادارے بھی انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث‘

ایمنسٹی انٹرنیشنل نے کار ساز اداروں اور الیکٹرانک مصنوعات بنانے والی کمپنیوں پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ بیٹری بنانے والی صنعت میں بد انتظامی کو رکوانے میں ناکام رہے ہیں۔ ان میں جرمن کار ساز ادارے بھی شامل ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیم  ایمنسٹی کی ایک رپورٹ کے مطابق ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو میں کوبالٹ نامی دھات کی کانوں میں کم عمر بچے کام کرتے ہیں اور اس دوران وہاں حفاظتی اقدامات کے فقدان کی وجہ سے ان بچوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق رہتے ہیں۔

یہ دھات برقی گاڑیوں اور دیگر الیکٹرانک آلات کے لیے بیٹریوں کی تیاری میں استعمال ہوتی ہے۔ کوبالٹ کی مانگ میں دن بہ دن اضافہ ہوتا جا رہا ہے، جس کی وجہ سے کان کنی کی صنعت پر بھی دباؤ بڑھ رہا ہے۔

ایمنسٹی کے مطابق بڑے جرمن کار ساز ادارے، جن میں بی ایم ڈبلیو اور فوکس ویگن بھی شامل ہیں، کوبالٹ کی کان کنی کے دوران انسانی حقوق کی شدید خلاف ورزیوں اور بچوں سے لی جانے والی مشقت کو رکوانے کے لیے کوئی خاطر خواہ اقدامات نہیں کر رہے۔ ایمنسٹی نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ افریقی ملک کانگو میں سات سال کی عمر کے بچے بھی کان کنی کے دوران اپنی صحت اور زندگیوں کو خطرے میں ڈال رہے ہیں۔

اس رپورٹ کے تناظر میں ان کمپنیوں نے اس معاملے کی چھان بین کی یقین دہانی کرائی ہے اور ساتھ ہی اس بات پر بھی زور دیا ہے کہ بیٹریوں کی ترسیل کرنے والے تمام اداروں سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اپنی صنعتی پیداوار کے دوران انسانی حقوق کا بھی پورا خیال رکھیں۔ اس سلسلے میں ایپل وہ پہلی کمپنی ہے، جس نے ان تمام اداروں کے نام شائع کیے ہیں، جن سے وہ کوبالٹ خریدتی ہے۔ دنیا بھر میں پچاس فیصد سے زائد کوبالٹ جمہوریہ کانگو کی کانوں سے حاصل کیا جاتا ہے۔

DW.COM