1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کارگو جہاز تباہ، بارہ ہلاک

پاکستانی حکام نے تصدیق کردی ہے کہ کارگو جہاز کریش ہونے کے نتیجے میں بارہ افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ہلاک ہونے والوں میں جہاز میں سوار عملے کے سات افراد کے علاوہ چارمزدور بھی شامل ہیں، جن پر یہ جہاز گرا۔

default

اس کریش کے بعد حادثے کی جگہ آگ لگ گئی

جرمن خبررساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق روسی ساخت کا طیارہ Ilyushin IL-76 کراچی کے بین الاقوامی ہوائی اڈے سے پرواز کے پانچ منٹ بعد ہی گر کر تباہ ہو گیا۔ یہ حادثہ اتوار کی علی الصبح پیش آیا۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق اس کارگو جہاز میں عملہ یوکرائن کا تھا۔ یوکرائن حکام نے اپنے باشندوں کے ہلاک ہونے کی تصدیق کر دی ہے۔

قبل ازیں بتایا گیا تھا کہ جہاز میں سوار عملہ روسی ہے ۔کراچی میں سول ایوی ایشن اتھارٹی کے ترجمان پرویز جورج نے بتایا تھا ،’ اس حادثے میں مجموعی طور پر بارہ افراد ہلاک ہوئے ہیں، آٹھ روسی باشندے جہاز پر سوار تھے جو تمام ہلاک ہو گئے جبکہ جس علاقے میں یہ جہاز گرا وہاں اس وقت سوئے ہوئے چار مزدور بھی مارے گئے۔‘ پاکستانی حکام کے مطابق یہ طیارہ ایک زیرتعمیر رہائشی اسکیم پر گرا، جس کی وجہ سے زیادہ ہلاکتیں نہیں ہوئیں۔

Flugzeugabsturz Pakistan air blue

پاکستان میں گزشتہ چارمہینوں میں یہ تیسرا جہاز تباہ ہوا ہے

کراچی سول ایوی ایشن حکام کے مطابق جہاز کے انجن میں آگ لگنے کے بعد پائلٹ نے کراچی کنٹرول ٹاور میں اطلاع دے دی تھی اور وہ یہ طیارہ واپس ایئر پورٹ لانا چاہتا تھا تاہم اسے اتنا وقت نہ مل سکا۔ بتایا گیا ہے کہ متحدہ عرب امارات سے آنے والے اس کارگو جہاز میں 31 ٹن امدادی سامان موجود تھا، جو سوڈان لے جایا جا رہا تھا۔

پرویزجورج نے بتایا ہے کہ اس حادثے کی وجوہات جاننے کے لئے تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور ابتدائی تحقیقات سے قبل نہیں بتایا جا سکتا کہ یہ حادثہ کیونکر ہوا اور اس کی وجوہات کیا تھیں۔ انہوں نے بتایا کہ جہاز تباہ ہونے کے بعد وقوعہ پر آگ لگ گئی تھی، جس کے نتیجے میں ہلاک شدگان جل گئے اور ان کی شناخت ممکن نہیں ہے۔ جورج کے بقول اب ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے ان ہلاک شدگان کی شناخت کی کوشش کی جائے گی۔ گزشتہ چار مہینوں کے دوران پاکستان میں یہ تیسرا جہاز تباہ ہوا ہے۔

حادثے کا شکار ہونے والا کارگو طیارہ سن وے ایئر لائنز کی ملکیت تھا۔ متحدہ عرب امارات سے خرطوم امدادی سامان پہنچانے کے لئے اس نجی کمپنی سے خصوصی خدمات حاصل کی گئی تھیں۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM