1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کاروکاری: تسلیم سولنگی کیس

مبصرین کاکہناہے کہ تسلیم سولنگی کاتعلق چونکہ وزیراعلی سندھ کے علاقے سے ہے اس لیے اس متنازعہ معاملہ میں وزیر اعلی سندھ کی صاحبزادی، نفیسہ شاہ سے تحقیقات کروانا قانونی اور اخلاقی لحاظ سے درست نہیں ہے۔

default

تسلیم سولنگی کیس کی تحقیقات کرنے والی رکن قومی اسمبلی نفیسہ شاہ ماضی میں سابقہ حکمرانوں کے ادوار میں انسانی حقوق اور عزت کے نام پرقتل کے واقعات کے خلاف غیر سرکاری تنظیموں کے ساتھ مل کر بھرپور مہم چلاتی رہی ہیں۔

آنکھوں میں خون ،آنسو اورویرانی میں لپٹے صوبہ سندھ کے ضلع خیرپور سے تعلق رکھنے والے گل شیر سولنگی اورانکی اہلیہ ذاکرہ بی بی نے گزشتہ ہفتہ اپنی 17سالہ بیٹی تسلیم سولنگی کے قتل اور مبینہ طورپر ہلاک کرنے سے قبل اسے کتوں کے آگے ڈالے جانے کے واقعہ کو جس انداز سے کراچی میں اخبار نویسیوں کے سامنے پیش کیا اسے سن کر ہر ذی شعور انسان خوف میں مبتلا ہوگیا۔^

صدر زرداری نے ایوان بالا میں اس واقعہ کے اٹھائے جانے کے بعد خیرپور سے تعلق رکھنے والی رکن قومی اسمبلی نفیسہ شاہ جو وزیراعلی سندھ قائم علی شاہ کی صاحبزادی ہیں جو گوٹھ حاجناشاہ بھیجا ۔ نفیسہ شاہ نے مختلف لوگوں سے ملاقاتوں کے بعد کہاہے کہ’’ مقتولہ تسلیم سولنگی کوقتل کرنے سے قبل بھوکے کتوں کے آگے ڈالے جانے کاالزام درست نہیں ہے۔‘‘ لیکن مقتولہ کے والدین کا اصرار ہے کہ انکی بیٹی کو قتل کرنے سے قبل کتوں کے آگے ڈالا گیاتھا۔ قتل ہونے والی لڑکی کے والدین کہتے ہیں کہ ان کی بیٹی کو اسکے چچاﺅں نے جائیداد ہتھیانے کے لیے کاری قرار دے کر قتل کروایا ہے لڑکی کے والدین کاکہناہے کہ جرگہ نے انہیں یقین دہانی کروائی تھی کہ انکی بیٹی کوکوئی نقصان نہیں پہنچے گا۔

اس معاملہ کی تحقیقات کرنے والی رکن قومی اسمبلی نفیسہ شاہ ماضی میں سابقہ حکمرانوں کے ادوار میں انسانی حقوق اور عزت کے نام پرقتل کے واقعات کے خلاف غیر سرکاری تنظیموں کے ساتھ مل کر بھرپور مہم چلاتی رہی ہیں۔ مگران کے والد کے حلقہ میں پیش آنے والے سنگین واقعہ پر وہ خاموش ہیں۔ مبصرین کاکہناہے کہ تسلیم سولنگی کاتعلق چونکہ وزیراعلی سندھ کے علاقے سے ہے لہذا اس متنازعہ معاملہ میں انکی صاحبزادی سے تحقیقات کروانا قانونی اور اخلاقی لحاظ سے درست نہیں ہے۔ تحقیقاتی کمیٹیوں کی رپورٹوں میں ہی اس سنگین معاملہ کوبھی داخل دفتر کردیاجائے گا۔گومیڈیا میں خبروں کے بعد تسلیم سولنگی کے قاتلوں کی سرپرستی کرنے والی پولیس نے 7افراد کوگرفتار کرلیاہے لیکن قبائلی رسم ورواج اور دباﺅں کے بعد شایدہی مبینہ ملزمان کیفرکردار کوپہنچ سکیں گے۔

دوسری جانب حکمراں جماعت پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے رکن سندھ اسمبلی حیمراالوانی غیرت کے نام پر قتل کی رسم کی پرجوش مخالف ہیں۔ مگرحکومت میں ہونے کے باوجود وہ صرف برطانوی دورکے انگریز حکمرانوں کی مثال دیکر کہتی ہیں کہ’’ صرف حکومت کی رٹ اورقانون پر عمل درآمد کی وجہ سے غیرت کے نام پر خواتین کے واقعات ختم ہوگئے تھے۔ مگرحیران کن طورپر آزادی کے بعد اورجمہوری حکومتیں ان واقعات کوروکنے میں ناکام نظرآتی ہیں۔‘‘ تا ہم ایم پی اے حمیرالوانی بھی اپنی جماعت کے وزیراعلی قائم علی شاہ سے تسلیم سولنگی کے قتل پر احتجاج کرنے سے بھی گریزاں ہیں۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والوں کا کہناہے کہ غیرت کے نام پر عورتوں کے قتل کاحکم دینے والے وڈیرے اورجاگیردار اسمبلیوں میں بیٹھے ہیں اوراسمبلی فلور پر عورتوں کوزندہ دفن کرنے انہیں کاری قرار دیکر قتل کرنے کے حق میں بھرپور اور مدلل دلائل دیتے ہیں۔