کارولین ایمکے کے نام جرمن بک انڈسٹری کا امن انعام | فن و ثقافت | DW | 23.10.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

کارولین ایمکے کے نام جرمن بک انڈسٹری کا امن انعام

کارولین ایمکے ایک جرمن صحافی، ادیبہ، فلسفی اور تعلقات عامہ کی ماہر ہیں۔ معاشرے میں تفرقات یا تقسیم کے خلاف ان کی کوششوں کی ستائش میں انہیں جرمن بک انڈسٹری کی جانب سے امن کا انعام دیا گیا ہے۔

کارولین ایمکے کی کتاب ’گیگن ڈی ہاس‘ (نفرت کے خلاف) سے اقتباس ہے، ’’یہ کیسے ممکن ہے کہ کچھ لوگ ایک بس کو گھیر کر اُس میں موجود مہاجرین کو ڈرا دھمکا رہے ہوں اور راستہ روکے ہوئے ہوں تاکہ پناہ گزین اپنے مرکز میں داخل نہ ہو سکیں۔ ایک بچہ رو رہا ہو اور پولیس ایک مجرم کی طرح اُسے کھینچے۔ اس صورت میں ایک گروپ دوسرے گروپ کے خوف کو کیوں دیکھ نہیں پا رہا؟ اور یہ لوگ چیخ رہے ہوں کہ جرمن قوم ہم ہیں۔‘‘ یہ واقعہ فروری 2016ء میں مشرقی جرمن ریاست سیکسنی میں رونما ہوا تھا۔ وہ لکھتی  ہیں کہ تنقید کرنے کے بجائے وہ یہ سمجھنا چاہتی ہیں کہ ایسا کیوں کر ہوا؟ ان لوگوں کے ذہنوں میں کون سے خیالات تھے؟ اور نفرت کس طرح سے پروان چڑھتی ہے؟

برلن سے تعلق رکھنے والی اس ادیبہ نے اپنے کتاب میں یہ سوالات جارحانہ انداز میں نہیں کیے بلکہ انہوں نے مہاجرین سے اُس نفرت آمیز رویے کے پس منظر کا تجزیہ کرنے کی کوشش کی ہے، جن کا انہیں آئے دن سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اپنے مضامین ، تجزیوں اور اخبارات میں شایع ہونے والی تحریروں کے ذریعہ کارولین ایمکے کئی سالوں سے معاشرے میں پائی جانے والی کٹر سوچ، اس کی تقسیم اور موجود تفرقات کے خلاف کام کر رہی ہیں۔ انہوں نے اس دوران یہودیوں، غیر ملکیوں، خواتین اور ہم جنس پرستوں کی آزادی اور ان کے خلاف پائی جانے والی سوچ کے خلاف بہت کچھ لکھا ہے۔

معاشرے میں ہم آہنگی برقرار رکھنے اور بات چیت کے ذریعے مسائل حل کرنے کی انہی اہم کوششوں کی وجہ سےکارولین ایمکے کو جرمن بک انڈسٹری کے امن انعام کا حق دار قرار دیا گیا ہے۔ اسے ادب کے شعبے میں جرمنی کا اہم ترین اعزاز سمجھا جاتا ہے۔ ہر سال اس ایوارڈ کا اعلان فرینفکرٹ کتب میلے کے آخری روز کیا جاتا ہے۔

دنیا کا یہ سب سے بڑا کتب میلا انیس سے شروع ہو کر تیئس اکتوبر تک جاری رہا۔ جیوری کے مطابق،’’کارولین ایمکے کو مشکل حالات زندگی کا سامنا رہا ہے اور انہوں نے ذاتی انداز میں بیان کیا ہے کہ کس طرح تشدد، نفرت اور بے زبانی انسانوں کو تبدیل کرتی ہے۔ ایک ایسے وقت میں جب اکثر معاشرے کو اجازت نہیں دی جاتی کہ وہ سیاسی، مذہبی اور ثقافتی سطح  پر درپیش تنازعات کو مذاکرات کے ذریعے حل کرے،کارولین ایمکے کا کام ایک مثال اور نمونہ ہے۔‘‘