1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

کارل مارکس کی 125 ویں برسی

کارل مارکس کو آج تک سرمایہ دارانہ نظام کا اہم ترین ناقد قرار دیا جاتا ہے۔ اُن کی تحریروں نے بیس وِیں صدی کی سب سے بڑی سماجی تحریکوں کو متاثر کیا، جن کے نتیجے میں آگے چل کر وہ کمیونسٹ مشرقی بلاک سامنے آیا، جس کی قیادت سوویت یونین کے ہاتھوں میں تھی۔ تب سے کارل مارکس کا نام آمریت اور مطلق العنان حکمرانی کی اصطلاحات کے ساتھ بھی جڑا ہوا ہے۔ حالانکہ اپنی زندگی میں مارکس آمرانہ نظاموں کے خلاف اپنی جدوجہد میں اتنا آگے چلے

default

گئے تھے کہ اُنہیں جرمنی چھوڑ کر فرار ہونا پڑا تھا۔

جرمنی سے باہر ہی اُن کی وہ تحریریں منظر عام پر آئیں، جو تب سے لے کر اب تک مارکس کو عالمی شہرت عطا کئے ہوئے ہیں۔ یہ اور بات ہے کہ اِن تحریروں کو بنیاد بنا کر جو سوشلسٹ تجربے کئے گئے، وہ اپنے انجام کو پہنچ چکے ہیں۔

کارل مارکس سن 1818ء میں جرمنی میں پیدا ہوئے۔ ماں باپ یہودی تھے لیکن مارکس چھ برس کے تھے، جب اُن کے والدین نے پروٹسٹنٹ مسیحی مذہب اختیار کرتے ہوئے سولہویں صدی کے مصلح مارٹن لوتھر کی تعلیمات کو اپنا لیا۔ مارکس نے برلن، بون اور ژینا یونیورسٹیوں سے تعلیم حاصل کی، جو تب جرمنی کی بہترین یونیورسٹیاں مانی جاتی تھیں۔ اُس زمانے کی چھوٹی چھوٹی جرمن ریاستوں میں مطلق العنان حکمرانی کے خلاف اپنی تنقید کی بناءپر اُنہیں 1843ء میں برلن چھوڑنا پڑا۔ وہ پہلے پیرس اور دو سال بعد برسلز چلے گئے۔

برسلز میں جب اُن کی سرگرمیاں وہاں کے حکمران طبقے کے لئے ناقابلِ برداشت ہو گئیں تو مارکس لندن چلے گئے۔ مشہور جرمن فلسفی اور سرمایہ دارانہ نظام کے اہم ترین ناقد کارل مارکس نے اپنے ساتھی فریڈرِش اینگلز کے ساتھ مل کر کمیونسٹ پارٹی کا منشور کے نام سے صرف 23 صفحات کی دستاویز فروری 1848ء میں لندن سے جاری کی تھی۔ تب مارکس کی عمر صرف تیس برس تھی۔

بعد ازاں یہی دستاویز دنیا کی 200 سے زیادہ زبانوں میں ترجمہ ہوئی اور سب سے زیادہ شائع ہونے والی دستاویز قرار پائی۔ دَورِ حاضر کے معروف جرمن فلسفی اور مارکسی فکر کے ماہر وولف گانگ فرٹس ہاؤگ کے خیال میں اِس منشور اور مارکس کی دیگر تحریروں کے چند ایک حصے ہیں، جو آج کل کے حالات پر منطبق کئے جا سکتے ہیں۔

”اِس کمیونسٹ منشور کے چند ایک پیراگراف ایسے ہیں، جنہیں پڑھ کر ایسا لگتا ہے، جیسے مارکس کسی ٹائم مشین میں بیٹھ کر آج کے دَور میں آئیے ہوں اور اُنہوں نے آج کل کے حالات بیان کئے ہوں۔ اُس زمانے میں یعنی 1847ء میں اُن کے ہم عصروں کے لئے یہ سب کچھ تصور کرنا ناممکن رہا ہو گا۔“


لندن میں مارکس نے برسوں تک ایک صحافی کے طور پر کام کیا اور انگلینڈ ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں سرمایہ دارانہ نظام کا گہری نظر سے مشاہدہ کیا۔ اُنہوں نے انسانوں کی زندگیوں پر مرتب ہونے والے اثرات اور اقتصادی انقلاب کی وجہ سے اُن کی زندگیوں میں آنے والی تبدیلیوں کو اپنی تحریروں کا موضوع بنایا۔

مارکس نے داس کاپیٹال یعنی سرمایہ کے نام سے اپنی مشہورِ زمانہ کتاب تحریر کی، جو پہلی بار سن 1867ء میں شائع ہوئی۔ اِس میں متوسط طبقے کے خدشات کو موضوع بناتے ہوئے سرمایہ دارانہ نظام کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ آج کل عالمگیریت کا عمل شروع ہونے کے بعد صنعتی اور کاروباری ادارے جس انداز میں اپنے پیداواری مراکز سستی افرادی قوت والے خطوں میں منتقل کر رہے ہیں اور اجرتوں کو کم سے کم رکھنے کی کوشش کر رہے ہیں، مارکس کو تب بھی اِس کا اندازہ تھا اور اُنہوں نے اِس کے سماجی خطرات سے خبردار کیا تھا۔ مارکسی طرزِ فکر کے ماہر جرمن فلسفی وولف گانگ فرٹس ہاؤگ کہتے ہیں:

”جب انسانوں کی اکثریت کو انسانی وقار سے ہم آہنگ طریقے سے ثقافتی سرگرمیوں میں شرکت کا موقع نہ ملے تو پھر وہ جمہوریت اور آزادانہ حقوق کی بھی مطلق پروا نہیں کرتے۔“

اِس طرح کے خطرات کے آگے مارکس نے اپنے اقتصادی سوشلزم کے نظریے کے ذریعے بند باندھنے کی کوشش کی۔ اُن کے نظریات نے 19 اور 20 وِیں صدی کی مزدور تحریکوں پر اور مشرقی یورپ، روس اور چین کی کمیونسٹ تحریکوں پر زبردست اثرات مرتب کئے۔ تاہم 1989ء میں جس طرح سے کمیونسٹ نظام کا تانہ بانہ بکھرا، اُس سے یہ واضح ہو گیا کہ سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف مارکس کے نظریات بھی ناکام ہی رہے۔ لندن ہی میں کارل مارکس کا انتقال ہوا، 14 مارچ 1883ء کو۔ یوں حال ہی میں مارکس کی 125 ویں برسی منائی گئی۔