1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کاربن کے اخراج میں کمی کے لئے چین کا ہدف

چین نے بھی کاربن کے اخراج میں کمی کے ہدف کا اعلان کر دیا ہے۔ بیجنگ حکام کی جانب سے یہ اعلان اس نوعیت کے امریکی فیصلے کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے۔

default

یہ دونوں ممالک دُنیا بھر میں کاربن کے اخراج میں سرفہرست ہیں۔ یہ اہداف آئندہ ماہ کوپن ہیگن میں ہونے والی عالمی ماحولیاتی کانفرنس میں پیش کئے جائیں گے۔

بیجنگ حکام کے مطابق کاربن کے اخراج میں 2020ء تک دوہزار پانچ کی سطح سے چالیس سے پینتالیس فیصد کمی لائی جائے گی۔ خبررساں ادارے روئٹرز کے مطابق تجزیہ کاروں نے چین کی جانب سے مقرر کردہ اس ہدف کو اعتدال پسندانہ قرار دیا ہے۔

وائٹ ہاؤس نے بدھ کو اعلان کیا کہ کوپن ہیگن کی عالمی ماحولیاتی کانفرنس کے دوران کاربن کے اخراج میں سترہ فیصد کمی کی تجویز پیش کی جائے گی۔ وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ کاربن کے اخراج میں یہ کمی 2005ء کے تناسب سے دوہزار بیس تک کی جائے گی، جو اقوام متحدہ کے معاہدوں میں استعمال کئے گئے 1990ء کے بینچ مارک سے تین فیصد کم جبکہ امریکی ایوانِ نمائندگان کی جانب سے منظور کردہ قانون کے عین مطابق ہے۔

Premierminister China Wen Jiabao

چین کے وزیر اعظم وین جیاباؤ

ادھر ما‌حولیات سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے کے سربراہ ایوو دی بوئر نے کہا ہے کہ واشنگٹن اور بیجنگ حکام کی جانب سے ان فیصلوں سے تحفظ ماحول کے لئے عالمی معاہدے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

بیجنگ انتظامیہ نے وزیر اعظم وین جیاباؤ کی کوپن ہیگن کانفرنس میں شرکت کا اعلان بھی کیا ہے۔ کوپن ہیگن کانفرنس کے میزبان ملک، ڈنمارک کے وزیر اعظم لارس راسموسن نے اپنے چینی ہم منصب کے اس فیصلے کا خیر مقدم کیا ہے۔ انہوں نے اس حوالے سے بیجنگ کے طرز عمل کو تعمیری قرار دیا۔

دوسری جانب واشنگٹن انتظامیہ بھی باراک اوباما کی کوپن ہیگن کانفرنس میں شرکت کا اعلان کر چکی ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ صدر اوباما کانفرنس کے ابتدائی سیشن میں شریک ہوں گے۔

کوپن ہیگن کانفرنس سات سے اٹھارہ دسمبر تک منعقد ہوگی۔ اقوام متحدہ کاربن کے اخراج میں کمی کے اہداف کے ذریعے بڑھتے ہوئے درجہ حرارت پر قابو پانا چاہتی ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM