1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

سائنس اور ماحول

کاربن اخراج پالیسی پر گیلارڈحکومت غیر مقبول

آسٹریلوی وزیراعظم جولیا گیلارڈ کی حکومت کاربن اور کان کنی پر مجوزہ ٹیکسوں اور اقتصادی اصلاحاتی پالیسی کے اعلان پر غیر مقبول ہونے لگی ہے۔ اس کا بھرپور فائدہ بڑی اپوزیشن جماعت کو پہنچ رہا ہے۔

default

سڈنی کے ماحول دوستوں کا پرانا مظاہرہ

ماحول کو آلودہ کرنے والی گیس کاربن کے اخراج پر ٹیکس عائد کرنےکے معاملے پر آسٹریلوی وزیراعظم جولیا گیلارڈ کی حکومت کو عوامی ناپسندیدگی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق عوام حکومتی فیصلے پر ناراض اور ناخوش ہیں۔ عوام کی ناراضگی کی ایک وجہ حکومت کا وہ فکسڈ ٹیکس ہے، جو کاربن اخراج کی مد پر لگانے کے حوالے سے تجویز کیا گیا ہے۔

گیلارڈ حکومت کا موقف ہے کہ اگلے برس جولائی سے کاربن اخراج پر ایک مقررہ ٹیکس کا نفاذ ہی عوام یا صنعت کو مجبور کر سکتا ہے کہ وہ ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے میں حکومت کا ساتھ دیں۔ اس مجوزہ منصوبے پر حکومت کو انتہائی شدید مخالفت کا سامنا ہے۔ اس مخالفت میں مضبوط تاجر برادری کے ساتھ ساتھ بڑی سیاسی جماعت کنزرویٹو پارٹی بھی پیش پیش ہے۔

حال ہی میں پیش کیے جانے والے رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق گیلارڈ کی لیبر پارٹی کی حمایت میں چھ فیصد کی کمی واقع ہوئی ہے۔ اس مقبولیت میں کمی کاربن اخراج پر فکسڈ ٹیکس کی پالیسی کے اعلان کے ساتھ ہی شروع ہو گئی ہے۔ غیر مقبولیت کی تازہ سطح گزشتہ سال اگست میں الیکشن سے آٹھ فیصد کم ہے۔

Julia Gillard Premierministerin Australien

آسٹریلوی وزیر اعظم جولیا جیلارڈ: فائل فوٹو

اس موجودہ صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے وزیر اعظم گیلارڈ کا کہنا ہے کہ ان کو پہلے دن ہی سے احساس تھا کہ سخت اقتصادی اصلاحاتی ایجنڈا ہی کاربن اخراج کو کم کرنے کے لیے اہم ہے اوراس پرکاروباری اور سیاسی حلقوں میں سخت بحث کے ساتھ ساتھ مخالفت بھی کی جائے گی لیکن انجام کار جیت ان کی ہی ہو گی۔ گیلارڈ حکومت کوئلے اور لوہے کی کانوں سے تلاش اور پیداوار پر بھی تیس فیصد ٹیکس عائد کرنے کا پلان کیے ہوئے ہے۔

آسٹریلیا میں اگلے عام انتخابات سن 2013 کے دوسرے حصے میں متوقع ہیں۔ کنزرویٹو پارٹی کے لیڈر ٹونی ایبٹ اس کوشش میں ہیں کہ حکومت کو کسی طور مجبور کر کے انتخابات قبل از وقت منقعد کروا لیے جائیں تا کہ وہ حکومت کی تازہ مخالفت کا سیاسی فائدہ اٹھا سکیں۔ ٹونی ایبٹ ان دنوں کاربن پالیسی کے علاوہ حکومت کی دوسری اقتصادی اصلاحات کی زورشور سے مخالفت جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ایبٹ کی اس پرزور حکومت مخالفت کا فائدہ ان کی جماعت کو حاصل ہوا ہے۔ کنزرویٹو پارٹی کی پرائمری لیول کی مقبولیت پینتالیس فیصد پر پہنچ گئی ہے۔ اگر لیبر پارٹی اور کنزرویٹو کا براہ راست موازنہ کیا جائے تو اس صورت میں لیبر پارٹی کی مقبولیت کا تناسب چھیالیس فیصد اور کنزرویٹو کا تناسب چون فیصد ہے۔ رائے عامہ کے تازہ جائزے میں لیبر پارٹی کے حامی سابق وزیر اعظم کیون رَڈ کو موجودہ وزیر اعظم پر ترجیح دے رہے ہیں۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس