1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کاتالونیا کی برطرف حکومت کے ارکان، ہسپانوی عدالت میں

کاتالونیا کی برطرف حکومت کے ارکان اور علیحدگی پسند قانون ساز جمعرات کو میڈرڈ میں دو ہسپانوی عدالتوں میں اپنے خلاف بغاوت کے ممکنہ الزامات کا سامنا کرنے کے لیے پیش ہو رہے ہیں۔

ممکنہ بغاوت کے الزامات کے تحت مقدمے کی سماعت کے لیے کاتالونیا کے علیحدگی پسند قانون سازوں کو میڈرڈ کی عدالت میں حاضری دینا پڑ رہی ہے۔ اطالوی استغاثہ نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ ان قانون سازوں کو قید کی سزا دی جائے۔

اسپین: کاتالونیا میں حالات بظاہر پرسکون

بارسلونا میں اسپین کے اتحاد کی خاطر مظاہرے

اسپین: کاتالونیا میں ’خاموش مزاحمت شروع کی جائے‘

عدالت کی جانب سے بیس مقامی سیاست دانوں اور کاتالونیا کی علاقائی حکومت کے برطرف سربراہ کارلیس پوج ڈیمونٹ کو عدالت میں پیش ہونے کے احکامات دیے گئے تھے۔ اسپین کے چیف پراسیکیوٹر نے ان افراد کے خلاف بغاوت کا مقدمے چلانے کا مطالبہ کیا ہے۔ 27 اکتوبر کو کاتلان کی مقامی پارلیمان نے آزادی کا اعلان کر دیا تھا۔

اس کے جواب میں اسپین کی مرکزی حکومت نے غیرعمومی کارروائی کرتے ہوئے کاتالونیا کا انتظام اپنے قبضے میں لے لیا تھا اور کابینہ کو برطرف کرنے کے ساتھ ساتھ علاقائی پارلیمان تحلیل کر دی گئی تھی۔ اسپین کی حکومت نے یکم دسمبر کو علاقائی انتخابات کے انعقاد کا بھی اعلان کیا ہے۔

ویڈیو دیکھیے 00:53

’کاتالونیا اسپین کا حصہ ہی ہے‘

جمعرات کے روز عدالتی پیشی کے موقع پر کاتالونیا کے علاقائی رہنما تو پیش ہوئے، تاہم کاتالونیا کے برطرف صدر کارلیس پوج ڈیمونٹ عدالت میں نہیں پہنچے۔ پوج ڈیمونٹ اس وقت برسلز میں ہیں اور ان کے ساتھ ان کی سابقہ کابینہ کے چند ارکان بھی ہیں۔

پوج ڈیمونٹ کے وکیل کا کہنا ہے کہ وہ برسلز ہی میں قیام کریں گے اور عدالتی سماعت کا حصہ نہیں بنیں گے، تاہم اس صورت میں ان کے گرفتاری کے وارنٹ جاری ہو سکتے ہیں اور بیلجیم سے ان کی حوالگی کی درخواست کی جا سکتی ہے۔

عدالت کی جانب سے کارلیس پوج ڈیمونٹ کی برطرف کابینہ کے 13 ارکان کے علاوہ پارلیمانی بورڈ کے چھ ارکان کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم جاری کیا گیا تھا۔

جمعرات کے روز عدالت پہنچنے والوں میں سب سے آگے پوج ڈیمونٹ کے نائب اوریول خونکوراس تھے۔ اس موقع پر اپنے وکلا کے ساتھ عدالت میں داخلے کے وقت صحافیوں کے جانب سے پوچھے گئے سوالات کا انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔

یہ بات اہم ہے کہ اگر ان افراد پر جرم ثابت ہو گیا، تو ہسپانوی قانون کے مطابق انہیں 30برس تک کی قید کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔

کارلیس پوج ڈیمونٹ نے اسی تناظر میں کہا ہے کہ انہوں نے اپنے چند سابقہ وزراء کے ساتھ برسلز منتقل ہونے کا فیصلہ ’آزادی اور سلامتی‘ کے لیے کیا۔ بتایا گیا ہے کہ ان کے چار سابقہ وزراء برسلز ہی میں رکیں گے، جب کہ باقی ہسپانوی عدالتی کارروائی کا حصہ بننے کے لیے اسپین لوٹ چکے ہیں۔

DW.COM

Audios and videos on the topic