1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کاتالونيا کے ريفرنڈم پر يورپی يونين کا متوازن رد عمل

يورپی يونين نے اسپين کے خطے کاتالونيا ميں آزادی کے حوالے گزشتہ روز ہونے والے ريفرنڈم کے موقع پر پوليس اہلکاروں کی متنازعہ کارروائيوں کی مذمت کرتے ہوئے يکجہتی اور مکالمت پر زور ديا ہے۔

يورپی کميشن نے کاتالونيا ميں آزادی کے ليے اتوار کے روز ہونے والے عوامی ريفرنڈم کے موقع پر پوليس کے مبينہ تشدد کی مذمت کرتے ہوئے ميڈرڈ حکومت پر زور ديا ہے کہ وہ علاقائی سياستدانوں اور عليحدگی کے حق ميں آواز بلند کرنے والوں سے بات چيت کرے۔ تاہم کميشن نے اتحاد اور يکجہتی کی تلقين بھی کی ہے۔ کميشن کی جانب سے پير کو اس بارے ميں جاری کردہ تحريری بيان ميں لکھا ہے، ’’ہم فريقين پر زور ديتے ہيں کہ تصادم کی راہ ترک کر کے اب مکالمت کا راستہ اختيار کيا جائے۔ تشدد کو سياست ميں آلے کے طور پر کبھی استعمال نہيں کيا جانا چاہيے۔‘‘ يورپی کميشن کا يہ بيان برسلز ميں ترجمان مارگريٹاس شيناس نے پڑھ کر سنايا۔

رپورٹروں نے يورپی کميشن کے ترجمان پر کافی دباؤ ڈالا تاہم انہوں نے واضح الفاظ ميں يہ نہيں کہا کہ ’يورپی يونين ہسپانوی پوليس کی متنازعہ کارروائيوں اور مبينہ تشدد کی مذمت کرتی ہے۔‘ اتوار يکم اکتوبر کو ہسپانوی خطے کاتالونيا ميں آزادی کے ليے ريفرنڈم کا انعقاد ہوا۔ اس ريفرنڈم کو وفاقی حکومت غير قانونی قرار دے چکی تھی اور رائے دہی کے عمل سے قبل ہی متعدد پولنگ اسٹيشنوں کو بند کر ديا گيا تھا اور لوگوں کو ووٹ ڈالنے سے روکا بھی گيا۔ ذرائع ابلاغ پر نشر کردہ مناظر ميں پوليس کو کافی سختی برتے ہوئے ديکھا جا سکتا ہے۔

Spanien Madrid Premierminister Rajoy zu Unabhängigkeits-Referendum (Reuters/S. Perez)

ہسپانوی وزير اعظم ماريانو راخوئے

يورپی يونين کے ليے يہ معاملہ کافی پيچيدہ ہے۔ ايک طرف وہ اسپين ميں استحکام کی خواہاں ہے کيونکہ عدم استحکام کی صورت ميں يورو زون ميں مالياتی بحران کی سی صورتحال پيدا ہو سکتی ہے تو دوسری جانب يورپی بلاک عوام کی خواہشات کا احترام بھی چاہتا ہے۔ اسی ليے اس بلاک کی جانب سے کافی متوازن رد عمل ظاہر کيا گيا۔ آج پير کے روز ہی کميشن کے صدر ژاں کلود ينکر ہسپانوی وزير اعظم ماريانو راخوئے سے بھی بات کرنے والے ہيں ليکن ابھی تک يہ واضح نہيں کہ اس گفتگو کا موضوع کيا ہو گا۔

کميشن کے بيان ميں البتہ ميڈرڈ کی تائيد ميں يہ ضرور کہا گيا کہ يہ ريفرنڈم ہسپانوی آئين کے مطابق غير قانونی ہے۔ برسلز نے ماضی ميں بھی يورپی يونين کے اندر سرگرم عليحدگی پسندوں کی تحريکوں کی حمايت نہيں کی ہے۔