1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کابل کے وسط میں امریکی میزائل ہدف کے بجائے ایک گھر کو جا لگا

افغان دارالحکومت کابل میں ایک امریکی فضائی حملے کے دوران فائر کیا گیا ایک میزائل اپنے ہدف کے بجائے ایک گھر پر جا گرا۔ اس حملے میں کم از کم ایک شہری ہلاک اور گیارہ دیگر زخمی ہو گئے۔ نیٹو نے اس واقعے کی تصدیق کر دی ہے۔

کابل سے جمعرات اٹھائیس ستمبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی ڈی پی اے کی رپورٹوں کے مطابق ہندوکش کی اس ریاست میں مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے عسکری امدادی مشن کی طرف سے بتایا گیا کہ افغان دارالحکومت میں عسکریت پسندوں کے خلاف یہ فضائی آپریشن امریکی فضائیہ کر رہی تھی، جس دوران فضا سے افغان زمینی دستوں کی مدد کی جا رہی تھی۔

بدھ ستائیس ستمبر کو رات گئے جاری کردہ نیٹو کے ایک بیان میں بتایا گیا کہ کل بدھ ہی کے روز جب امریکی وزیر دفاع جیمز میٹس اور نیٹو کے سیکرٹری جنرل ژینس اسٹولٹن برگ اپنے ایک اچانک دورے پر کابل پہنچے تھے، اس کے فوراﹰ بعد عسکریت پسندوں نے کابل کے ہوائی اڈے کے فوجی حصے کی طرف کئی راکٹ فائر کیے تھے۔

میٹس اور اسٹولٹن برگ کی کابل آمد اور میزائل حملہ

’بھارتی فوجی بوٹوں کی چاپ افغان سرزمین پر سنائی نہیں دے گی‘

امریکی وزیر دفاع کا بھارتی دورہ، افغانستان اہم موضوع

بیان کے مطابق ان راکٹ حملوں کے بعد افغان آرمی کے دستوں اور ان کی مدد کرنے والی امریکی فضائیہ نے کابل میں اپنا ایک آپریشن شروع کر دیا، جس دوران فائر کیے جانے والے میزائلوں میں سے ایک کابل کے ایک رہائشی علاقے میں ایک مکان پر جا گرا۔

Afghanistan Mattis und Stoltenberg bei Ghani PK in Kabul

بدھ کے روز کابل میں مشترکہ پریس کانفرنس: دائیں سے بائیں، امریکی وزیر خارجہ جیمز میٹس، افغان صدر اشرف غنی اور نیٹو سیکرٹری جنرل ژینس اسٹولٹن برگ

مغربی دفاعی اتحاد کے بیان کے مطابق، ’’بہت افسوس کی بات ہے کہ ایک میزائل نے درست کام نہ کیا اور اپنے ہدف کے بجائے ایک گھر پر جا گرا۔‘‘ نیٹو کی طرف سے اس حملے میں ہلاکتوں یا زخمی ہونے والوں کے بارے میں کچھ نہیں بتایا گیا۔

تاہم کابل پولیس کے مطابق اس امریکی میزائل کے افغان دارالحکومت میں ایک مکان پر گرنے کے نتیجے میں کم از کم ایک شہری ہلاک اور گیارہ دیگر زخمی ہو گئے۔ اپنے ہی گھر میں اچانک اس میزائل حملے کی زد میں آ جانے والوں میں سے اکثر کا تعلق ایک ہی خاندان سے بتایا گیا ہے۔

افغان صدر کی پاکستان کو امن مذاکرات کی دعوت

پاکستان کی طرف سے امریکا کے لیے سخت پالیسی، نتیجہ کیا ہو گا؟

امریکا کی عالمی طاقت کے زوال میں القاعدہ کا کردار

پولیس نے مزید بتایا کہ اس کارروائی کے دوران، جس کا ہدف طالبان عسکریت پسند تھے، کم از کم چار شدت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا۔ کابل پولیس کے مطابق شہر میں شدت پسندوں کے خلاف یہ زمینی اور فضائی کارروائی سات گھنٹے سے بھی زیادہ دیر تک جاری رہی۔

جیمز میٹس اور ژینس اسٹولٹن برگ کے کابل پہنچنے کے بعد شہر کے ایئر پورٹ پر میزائل حملوں کی ذمے داری افغان طالبان اور شدت پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش دونوں نے قبول کر لی تھی۔

افغانستان کی ’لامتناہی جنگ‘ کا ایندھن بننے والے بچے

ساڑھے تین ہزار اضافی امریکی فوجی افغانستان جائیں گے

امریکی وزیر خارجہ میٹس اور نیٹو کے سیکرٹری جنرل اسٹولٹن برگ نے کابل پہنچنے کے بعد کل بدھ کے روز افغان صدر اشرف غنی سے ملاقات کرنے کے علاوہ امریکا اور نیٹو کے فوجی دستوں سے بھی ملاقاتیں کی تھیں۔

ان ملاقاتوں کے بعد ان دونوں شخصیات نے ایک پریس کانفرنس میں امریکا کی افغانستان سے متعلق نئی عسکری پالیسی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ امریکا ہندوکش کی اس ریاست میں جلد ہی اپنے مزید تین ہزار فوجی تعینات کر دے گا۔ اس کے علاوہ نیٹو کے دیگر رکن ممالک کی طرف سے بھی افغانستان میں ان ریاستوں کے دستوں کی تعداد میں کچھ اضافہ کر دیا جائے گا۔

ویڈیو دیکھیے 04:17

دہشت گردوں کے ’محفوظ ٹھکانے‘ ختم کر دیے جائیں گے، ہلینا وائٹ

DW.COM

Audios and videos on the topic