1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’کابل کے قصائی‘ کا ملکی سیاست میں واپسی کا امکان

افغانستان نے حکومت کے خلاف لڑنے والے جنگی سردار گلبدین حکمت یار کے ساتھ امن معاہدہ کر لیا ہے۔ اس طرح جنگی جرائم کی تاریخ رکھنے والے اور گزشتہ کئی برسوں سے روپوش اس لیڈر کا سیاست میں واپسی کا راستہ ہموار کیا گیا ہے۔

حکمت یار عسکری گروہ حزب اسلامی کے سربراہ ہیں اور ان کا شمار ان متنازعہ ترین شخصیات میں ہوتا ہے، جو طالبان کے ساتھ مل کر ابھی تک حکومت مخالف کارروائیوں میں مصروف رہے ہیں۔ انہیں کچھ حلقے ’کابل کے قصائی‘ کے نام سے بھی پکارتے ہیں۔

حزب اسلامی کا شمار طالبان کے بعد افغانستان کے دوسرے بڑے عسکری گروپ میں ہوتا ہے اور اس امن معاہدے کو افغان صدر اشرف غنی کی ایک بہت بڑی علامتی فتح قرار دیا جا رہا ہے۔ اس معاہدے کے سلسلے میں باقاعدہ تقریب کا انعقاد آج دارالحکومت کابل میں کیا گیا، جہاں حزب اسلامی کے ایک وفد نے افغانستان کی اعلیٰ امن کونسل (ایچ پی سی) کے اراکین اور سلامتی کے مشیر سے ملاقات کی۔ افغانستان کی امن کونسل ملک میں مفاہمتی کوششوں کی ذمہ دار ہے۔

اس امن کونسل کی نائب سربراہ حبیبہ سرابی کا اس تقریب کے موقع پر کہنا تھا، ’’یہ معاہدہ امن کونسل اور افغان حکومت اور حزب اسلامی کے مابین دو سال کے مذاکرات کے بعد کیا گیا ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا، ’’امن مذاکرات کامیابی کے ساتھ پایہ تکمیل کو پہنچے ہیں۔‘‘

Gulbuddin Hekmatyar

حکمت یار کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ایک انتہائی سخت زندگی گزاری اور ان کے حامی ’مجاہدین‘ افغانستان میں خانہ جنگی کے دور میں ہزاروں انسانی ہلاکتوں کے ذمہ دار تھے

بتایا گیا ہے کہ یہ امن معاہدہ اس وقت سے نافذ العمل ہو گا، جب اس پر افغان صدر اشرف غنی اور حکمت یار دستخط کریں گے تاہم یہ واضح نہیں ہے کہ وہ یہ دستخط کب کریں گے۔

نیوز ایجنسی اے ایف پی کے مطابق افغان حکومت نے حکمت یار کو ماضی کے تمام مقدمات میں استثنیٰ دینے کا وعدہ کیا ہے۔ خیال کیا جاتا ہے کہ حکمت یار پاکستان میں کسی جگہ روپوش ہیں لیکن ان کا کہنا ہے کہ وہ افغانستان میں ہی موجود ہیں۔

تاہم چند تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ افغان حکومت کے ساتھ اس معاہدے کے بڑے اثرات پیدا ہونا ممکن نہیں۔ افغانستان کے اندر حکمت یار اپنی سیاسی وفاداریاں تبدیل کرنے کے باعث اب کمزور ہو چکے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق حکمت یار اب بوڑھے ہو چکے ہیں اور وہ ایسے کسی معاہدے سے ملکی سیاست میں اہمیت حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں جبکہ کچھ ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ اس جنگی سردار کے یقینی طور پر افغان سیاست کے سرگرم افراد سے تعلقات ہیں اور اُن کا فائدہ غنی حکومت کو حاصل ہو سکتا ہے۔

دوسری جانب امریکا نے کہا ہے کہ وہ اس گروپ کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات میں شامل نہیں ہے لیکن وہ اس معاہدے کا خیرمقدم کرتا ہے۔

حکمت یار کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ انہوں نے ایک انتہائی سخت زندگی گزاری اور ان کے حامی ’مجاہدین‘ افغانستان میں خانہ جنگی کے دور میں ہزاروں انسانی ہلاکتوں کے ذمہ دار تھے۔

بتایا جاتا ہے کہ اپنی طالب علمی کے دور میں وہ ’بے پردہ‘ خواتین پر تیزاب پھینکنے کی وارداتوں میں ملوث رہے، تاہم بعد میں افغانستان پر سوویت حملے کے بعد امریکا سے لاکھوں ڈالر کا سرمایہ اور ہتھیار ترسیل کیے جانے کا سلسلہ شروع ہوا، تو وہ بھی اس لڑائی میں شامل ہو گئے۔