1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کابل کے طالبان سے مذاکرات: ڈوئچے ویلے کا تبصرہ

افغانستان کی جنگ شروع ہونے کے بعد سے پہلی مرتبہ ان علامات ميں اضافہ ہو رہا ہے کہ تمام فريق تنازعے کا سياسی حل چاہتے ہيں۔ ممتاز امريکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق کرزئی حکومت نے طالبان کی قيادت سے مذاکرات شروع کرديے ہيں۔

default

صدر حامد کرزئی قندہار ميں قبائلی سرداروں سے خطاب کرتے ہوئے

عالمی برادری کی حمايت سے افغانستان پر امريکی حملے کے نو سال پورے ہو رہے ہيں۔ امريکہ نے شمالی اتحاد کی مدد سے طالبان کی حکومت کا خاتمہ کر ديا اور افغانستان کو دہشت گرد تنظيم القاعدہ کے تربيتی کيمپوں اور جنگجوؤں کی بھرتی کے لئے استعمال کرنے کا سلسلہ بند کر ديا۔ 11 ستمبر سن 2001 کو امريکہ پر ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے بعد يہ اقدام ناگزیر تھا۔

تاہم اس کے بعد سے يہ جنگ امريکہ اور اُس کے اتحادی ملکوں کے فوجيوں کی بڑی تعداد ميں ہلاکت کا سبب بن رہی ہے اور اس پر اربوں ڈالر بھی خرچ ہو چکے ہيں۔ بہت سے افغان شہری بھی اس جنگ ميں ہلاک ہو چکے ہيں۔ کرزئی حکومت ملک پر اپنے اختيار سے محروم ہو چکی ہے اور طالبان افغانستان کے بہت بڑے حصے کو دوبارہ اپنے زير اثر لے آئے ہيں۔

Trauerfeier Soldaten Afghanistan

افغانستان سےجرمن فوجيوں کی نعشوں کی جرمنی ميں آمد

اس کے باوجود دونوں فريق يہ جانتے ہيں کہ وہ يہ جنگ فوجی لحاظ سے کبھی بھی نہيں جيت سکتے۔ کچھ عرصہ پہلے امريکی فوجيوں کی تعداد ميں اضافے کے بعد بہت زور و شور سے ہونے والی موسم گرما کی ايک بڑی فوجی کارروائی کے بھی کوئی خاطر خواہ نتائج برآمد نہيں ہوئے ہيں۔ اس دوران افغانستان ميں غير ملکی افوج کو پٹرول اور ساز و سامان کی فراہمی تک بھی طالبان کے حملوں کی زد ميں آ چکی ہے۔

افغانستان ميں امريکی اور يورپی افواج کی سرگرمياں خود اُن کی حکومتوں کے لئے ايک سياسی بوجھ بھی بن چکی ہيں۔ امریکہ کی اعلیٰ ترين فوجی قيادت کی طرف سے بھی يہ تسليم کئے جانے کے بعد کہ افغانستان کی جنگ ميں فوجی فتح ممکن نہيں، تمام متعلقين پر مذاکرات کے ذريعے سياسی حل کی تلاش کے لئے دباؤ بہت زیادہ ہو گیا ہے۔

David Petraeus NATO US Force Afghanistan

افغانستان ميں امريکی اور نيٹو افواج کے کانڈر جنرل ڈيوڈ پيٹريس

واشنگٹن پوسٹ کے مطابق ملا عمر نے طالبان کی نئی نسل کو کرزئی اور امريکہ کے ساتھ مذاکرات کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

ليکن اس بات پر کوئی سمجھوتہ نہيں ہو سکتا کہ القاعدہ اور ملا عمر واپس نہيں آئيں گے۔ اس لئے کہ ایسی صورت میں افغانستان ايک بار پھر دہشت گردوں کا ٹھکانہ بن جائے گا۔ ملا عمر کا مستقبل سعودی عرب ميں جلاوطنی ہو سکتا ہے۔ افغانستان ميں مغربی طرز کی جمہوريت ممکن نہيں کيونکہ افغان عوام کی اکثريت اسے پسند نہيں کرتی۔

امريکہ کو اس پر کوئٍ اعتراض نہيں ہوسکتا کيونکہ صدر اوباما افغانستان ميں فوجی سرگرمياں جلد از جلد ختم کردينا چاہتے ہيں۔اس وقت اوباما کو کانگريس کے اگلے انتخابات کی وجہ سے بھی افغانستان کے سلسلے ميں سفارتی سطح پر پيش رفت کی اشد ضرورت ہے۔

تبصرہ: دانيئل شَيشکے وِٹس

ترجمہ: شہاب احمد صدیقی

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس