1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کابل کا ردعمل ناقابل فہم ہے، روس

ماسکو حکومت نے افغانستان میں انسداد منشیات سے متعلق روس اور امریکہ کے مشترکہ فوجی آپریشن کے خلاف کابل حکومت کے تند و تیز ردعمل کو ناقابل فہم قرار دیا ہے۔

default

روس میں انسدادِ منشیات کی وفاقی ایجنسی کے ذرائع کے مطابق افغان حکام کو اس آپریشن سے قبل اعتماد میں لیا گیا تھا اور ان کے دستے بھی کارروائی میں ساتھ تھے۔ مشرقی صوبے ننگر ہار کے شنواری علاقے میں یہ فوجی کارروائی ہفتے کو کی گئی تھی۔ روسی حکام نے اس کارروائی میں ہیروئن تیار کرنے والی چار لیبارٹریز اور لگ بھگ 250 ملین ڈالر مالیت کی منشیات تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔ افغان صدر حامد کرزئی نے روس اور امریکہ کی اس کارروائی کو قومی خودمختاری کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی تھی۔ افغانستان میں موجود روسی حکام کا بھی اصرار ہے کہ کابل حکومت کو اعتماد میں لیا گیا تھا اور روسی حکام نے محض مشاورتی کردار نبھایا تھا۔

دنیا بھر میں منشیات کی پیداوار کے حوالے سے بدنامی کے سبب اب افغان سول سوسائٹی اس مسئلے سے نمٹنے کے لئے زیادہ سرگرم دکھائی دے رہی ہے۔ ایران کی سرحد سے متصل افغان صوبے ہرات میں ایک امدادی گروپ ’ثنائی‘ کے تحت کسانوں کو زعفران کی کاشت کرنے کی ترغیب دی جارہی ہے۔ ثنائی کے روح رواں عبدالخالق ستانکزئی کا کہنا ہے کہ زعفران افیون کی کاشت کا بہترین نعم البدل ہوسکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے، ’زعفران کی کاشت کے لئے اعتماد اور صبر کی ضرورت ہوتی ہے، اس کی پیداوار سال بہ سال بڑھتی ہے اور بالآخر چوتھے سال کسان کو فائدہ ملنا شروع ہوتا ہے۔’

Safrananbau und Prozess in Herat, Afghanistans Provinz

ہرات میں زعفران کے ایک کھیت کا منظر

مغربی ہرات میں افیون کے بہت سے کھیتوں کی جگہ اب زعفران کی کاشت شروع ہوچکی ہے۔ کھانوں میں رنگ و ذائقہ لانے کے ساتھ ساتھ زعفران کا استعمال دیسی ادویات، رنگ سازی اور خوشبوؤں کی صنعت میں بھی ہوتا ہے۔ نصف کلوگرام خشک زعفران کے لئے لگ بھگ 75 ہزار پھول درکار ہوتے ہیں۔ اتنی مقدار میں زعفران کی مالیت 5 ہزار ڈالر کے قریب ہے۔

افغانستان میں پیدا ہونے والی منشیات کی مالیت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتا ہے کہ اقوام متحدہ کے دفتر برائے انسداد منشیات و جرائم UNODC کے اعداد و شمار کے مطابق اس جنگ زدہ ملک میں سالانہ لگ بھگ تین ارب ڈالر کی افیون پیدا ہوتی ہے۔ اس کی بڑی مقدار یورپ سمگل کی جاتی ہے جبکہ طالبان شدت پسند بھی منشیات کی نقل و حرکت سے جبری محصول وصول کرتے ہیں۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس