کابل میں ’وار لارڈز‘ کی جگہ اب ’آرٹ لارڈز‘ | فن و ثقافت | DW | 27.08.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

کابل میں ’وار لارڈز‘ کی جگہ اب ’آرٹ لارڈز‘

کابل میں فن کی ترویج کے لیے کام کرنے والے نوجوان فنکاروں اور کارکنان نے شہرکے دیواروں پر وال چاکنگ شروع کر دی ہے۔ یہ فنکارانہ صلاحیتوں کی ترویج کے علاوہ اصلاحی پیغامات پہنچانے کا ایک مشن بھی ہے۔

’کابل آرٹ لارڈز‘ کہلانے والے اس گروپ نے ایک ہفتہ لگا کر بہت خوبصورت پورٹریٹ بنایا ہے اور اِس کا مقصد صرف شہر کی گلیوں کی صفائی ستھرائی کرنے والوں کو خراج تحسین پیش کرنا ہے۔ چھیالیس سالہ افغان نژاد آسٹریلین آرٹسٹ کبیر مُکمل کا کہنا ہےکہ افغانستان میں بہت سی ایسی حفاظتی دیواریں تعمیر کر دی گئی ہیں، جن سے شہر کا حسن ماند پڑ گیا ہے اور اگر وہ ان دیواروں پر حسین تصاویر بنائیں یا ان پر کچھ سماجی پیغامات بہتر انداز میں لکھ دیں تو کم از کم شہر کی خوبصورتی میں اضافہ یقینی ہوگا۔

کبیر مُکمل نے ایک بہت بڑی دیوار کو اپنی پینٹنگز کے لیے منتخب کیا۔ یہ دیوار افغان سینٹرل بینک کو محفوظ بنانے کے لئے تعمیر کی گئی ہے۔ مُکمل کے مطابق اس نے بد صورت دیوار کی صورت کو بدلنے کی خاطر ایک پورٹریٹ بنایا ہے۔ مکمل کے خیال میں دیوار پر جو تصویر نظر آرہی ہے، اِسے ’عام ہیرو‘ یا ’شہری ہیرو‘ کا نا م دیا گیا ہے۔

طالبان کی مسلح بغاوت کی وجہ سے شہر مسلسل ایک فوجی اڈے کی شکل اختیا ر کر رہا ہے۔ سرکاری افسران اور غیر ملکی سفارتخانوں کے علاوہ اداروں کو تحفظ دینے کے لیے شہر میں کنکریٹ کی اونچی دیواریں تعمیر کر دی گئی ہیں اور انہی دیواروں کو دیکھ کر کبیر مُکمل کو غصہ آتا ہے۔

اُس نے مزید کہا کہ جن لوگوں کو اصل میں عام لوگوں کی حفاظت کرنی چاہیے وہ ان دیواروں کے اندر ہیں اور اُس جیسے لوگ بغیر کسی حفاظتی اقدامات کے باہر ہیں۔ مُکمل نے تاسف کے ساتھ کہا کہ کابل میں بے ہنگم دیواروں سے جو تبدیلی آئی ہے، وہ صرف ان لوگوں کی وجہ سے ہے، جو ان دیواروں کے اندر براجمان ہیں۔ ایک اور مصور بصیر حمیدی کا خیال ہے کہ وہ کابل میں رہنے والے لوگوں کی بصری خواندگی کو بڑھا نا چاہتے ہیں تاکہ وہ ان تصویروں میں چھپے ہوئے پیغامات کو سمجھ سکیں۔

ایک اطالوی مصنفہ فرانسسکا ریچیا نے بتایا ہے کہ کچھ ہی گزشتہ کچھ سالوں میں ہزاروں ڈالرز کی بھاری گرانٹس کی مدد سے کابل میں بہت سے میوزک فیسٹیولز کے علاوہ سٹریٹ آرٹ ایونٹس کے انعقاد کے ساتھ ساتھ وال چاکنگ کی ورکشاپس کا بھی اہتمام بھی کیا گیا۔

ایک راہگیر عبدالحبیب نے گزرتے ہوئے ان دیواروں کی مناسبت سے کہا کہ دیوار کی دوسری طرف بیٹھے ہوئے لوگ زیادہ اہم ہیں اور ان کا خون اُس جیسے لوگوں کے خون سے زیادہ قیمتی ہے لیکن یہ لوگ پنجرے میں قید ہو گئے ہیں اور عام لوگ خودکش بمباروں کے رحم وکرم پر ہیں۔