1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کابل میں ’نائن الیون ارب پتیوں‘ کے محلات

دیواروں پر دیدہ زیب رنگ ہیں، فرنیچر انتہائی قیمتی ہے جبکہ کمروں کی چھتوں کے ساتھ انتہائی قیمتی فانوس لٹک رہے ہیں۔ اس علاقے کو ارب پتیوں کے امریکی شہر بیورلی ہلز کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔

لاکھوں ڈالر کی قیمت سے تعمیر کیے گئے ان بنگلوں کو ’پوست محلات‘ بھی کہا جاتا ہے کیونکہ خدشات ظاہر کیے جاتے ہیں کہ ان کی تعمیر اُس غیرقانونی پیسے سے کی گئی ہے، جو نائن الیون حملوں کے بعد افیون کی غیرقانونی کاشت سے حاصل ہوا ۔ تاہم شیر پور کے ان محلات نما بنگلوں میں آپ بھی رہائش پذیر ہو سکتے ہیں لیکن اس کے لیے آپ کو ماہانہ پچیس سے ساٹھ ہزار ڈالر ( چھبیس سے اکسٹھ لاکھ روپے) کرایہ ادا کرنا ہوگا۔

کابل کے علاقے شیر پور میں واقع محلات نما یہ گھر سن دو ہزار ایک میں امریکی حملے کے بعد تعمیر کیے گئے تھے۔ آج سے دو سال پہلے تک کابل میں غیر ملکی ٹھیکیداروں، امدادی ایجنسیوں اور سکیورٹی کمپنیوں کی بھیڑ تھی اور انہیں عیش و آرام کے لیے ایسی ہی رہائش گاہوں کی ضرورت تھی۔ دو برس پہلے ان مکانوں کی مالیت بھی آج کے مقابلے میں دو گنا زیادہ تھی۔ لیکن نیٹو افواج کی واپسی کے بعد کابل سے غیر ملکی آہستہ آہستہ اپنے ملکوں کی طرف واپس روانہ ہوتے جا رہے ہیں۔ حالات غیر مستحکم ہوتے جا رہے ہیں اور طالبان کی بڑھتی ہوئی کارروائیوں کی وجہ سے رئیل اسٹیٹ کا بزنس زوال پذیر ہوتا جا رہا ہے۔ اب شیر پور میں جگہ جگہ ’کرایے کے لیے خالی ہے‘ ایسے سائن بورڈ پڑے جا سکتے ہیں۔

افغانستان: ایک نہ ختم ہونے والی جنگ

افغانستان، دنیا کا تیسرا بدعنوان ترین ملک: ڈی ڈبلیو کا تبصرہ

کابل میں کام کرنے والے اسٹیٹ ایجنٹ عبدالطیف کا ایک باون کمروں والی عالیشان عمارت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’مارکیٹ صفر کے قریب پہنچ چکی ہے۔‘‘ باون کمروں والے گھر کی گرد اونچی اونچی مضبوط دیواریں بنی ہوئی ہیں جبکہ مالک مکان کے مطابق یہ بم پروف بھی ہے، اس کے باوجود یہ گھر گزشتہ چھ ماہ سے خالی ہے۔ لطیف کے مطابق اب ایسی عمارتوں کی ڈیمانڈ ختم ہوتی جا رہی ہے۔ اس علاقے کے خالی گھر روز بروز خراب ہوتی ہوئی افغان معیشت کی طرف کی طرف بھی اشارہ کرتے ہیں۔ مقامی مبصرین کے مطابق ملکی معیشت اب ’ڈالر معیشت سے افغان معیشت‘ کی طرف منتقل ہو رہی ہے۔ اصل میں اب تک افغان معیشت بین الاقوامی امداد کے سہارے چلتی آئی ہے اور نیٹو افواج کے انخلاء کے بعد اس امداد میں بھی بتدریج کمی آ رہی ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق افغانستان کی معیشت ایسے ہی ہے، جیسے کومے میں گئے ہوئے کسی مریض کو برسوں تک گلوکوز کے ذریعے زندہ رکھا جائے اور اچانک کسی روز اس کی ادویات ختم کرتے ہوئے اسے دوڑ لگانے کا کہا جائے۔ شیر پور کو افغانستان میں کرپشن کی علامت بھی سمجھا جاتا ہے اسی وجہ سے مقامی زبان میں سے اس علاقے کو شیر پور کی بجائے ’شیر چور‘ بھی کہا جاتا ہے۔ یہ ابھی تک واضح نہیں ہے کہ کروڑوں روپے کی لاگت سے یہ عالیشان مکان کیسے بنائے گئے، ان کے لیے سرمایہ کدھر سے آیا ؟ تجزیہ کاروں کے مطابق افیون کی فروخت سے ہونے والی آمدنی کابل میں لگائی گئی۔

کابل میں بشیر رئیل اسٹیٹ کے مالک بشیر عمر کا کہنا ہے، ’’آپ خود اس بارے میں سوچیے، کوئی سرکاری بیوروکریٹ، جس کی ماہانہ تنخواہ دو لاکھ روپے ہے، وہ کیسے پچیس لاکھ ڈالر کا بنگلہ افورڈ کر سکتا ہے اور وہ بھی وہاں، جہاں صرف جگہ کی قیمت دس لاکھ ڈالر سے زائد ہے۔‘‘ بشیر کے مطابق ان لوگوں سے سوال ہونا چاہیے کہ ان کے پاس اتنا پیسہ کہاں سے آیا ہے ؟ تاہم جونہی باون کمروں والے بنگلے کے مالک سے بات کرنے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے اس بارے میں بات کرنے سے انکار کر دیا۔

بشیر کے مطابق ملکی اشرافیہ منی لانڈرنگ کے ذریعے پیسہ ملک سے باہر لے جا رہی ہے لیکن حکومت ان کے خلاف کوئی بھی اقدام کرنے سے قاصر ہے۔ امریکا میں بروکنگز انسٹی ٹیوشن کے ایک سینئر فیلو اور بحران زدہ ملکوں کی اقتصادیات کی ماہر وانڈا فیلباب کہتی ہیں، ’’افغانستان سے خطرناک حد تک پیسہ بیرون ملک، خاص طور پر دبئی، ترکی، پاکستان اور بھارت اسمگل کیا جا رہا ہے۔‘‘

فیلباب کہتی ہیں کہ کابل کے ’پوست محلات‘ گزشتہ ایک دہائی کے غیر مساوی فوائد اور جنگ کے اخراجات کی غیر مساوی تقسیم کی علامت ہیں۔

DW.COM