1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کابل میں طالبان کا بڑا خود کش حملہ: تیس ہلاکتیں، سینکڑوں زخمی

افغان دارالحکومت کابل کے وسطی حصے میں آج منگل انیس اپریل کے روز کیے گئے طالبان عسکریت پسندوں کے ایک تباہ کن خود کش حملے میں ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر کم از کم بھی تیس ہو گئی ہے جبکہ زخمیوں کی تعداد سوا تین سو سے زائد ہے۔

نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں کے مطابق اس واقعے میں طالبان عسکریت پسندوں نے کابل شہر کے وسط میں قومی سلامتی کے ایک ادارے کی عمارت کو صبح کے وقت معمول کی مصروفیت کے اوقات میں ایک بم حملے کا نشانہ بنایا۔ اس دھماکے کے لیے خود کش حملہ آور نے ایک ٹرک استعمال کیا، جس پر دھماکا خیز مواد لدا ہوا تھا۔

حکام کے مطابق اس حملے میں کم از کم بھی 30 افراد ہلاک ہوئے جبکہ چند دیگر رپورٹوں میں ہلاک شدگان کی تعداد 40 بتائی گئی ہے۔ حکام کے مطابق اس دھماکے میں زخمی ہونے والوں کی تعداد 320 سے زائد بنتی ہے۔

افغانستان میں مقامی سکیورٹی اہلکاروں اور غیر ملکی اتحادی دستوں پر حملے کرنے والے طالبان عسکریت پسندوں نے ابھی ایک ہفتہ پہلے ہی اعلان کیا تھا کہ وہ جلد ہی اپنے ان حملوں کو تیز تر کر دیں گے، جو ہر سال موسم بہار میں خاص طور پر شدت پکڑ لیتے ہیں۔

اس حملے کے بعد افغان صدر اشرف غنی کے دفتر سے جاری کردہ ایک پیغام میں اس دھماکے کی ’سخت ترین ممکنہ الفاظ میں مذمت‘ کی گئی۔ کابل کا صدارتی محل اس حملے کی جگہ سے محض چند سو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔

کابل میں آج کے حملے کے چند گھنٹے بعد اس واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے مقامی پولیس کے سربراہ جنرل عبدالرحمان رحیمی نے صحافیوں کو بتایا، ’’مرنے اور زخمی ہونے والوں میں عام شہری بھی شامل ہیں اور افغان سکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی۔‘‘ جنرل رحیمی نے کہا کہ اس خود کش حملے کے بعد موقع پر موجود سکیورٹی اہلکاروں کا حملہ آور کے دو ساتھیوں کے ساتھ فائرنگ کا تبادلہ بھی شروع ہو گیا تھا۔

دوسری طرف طالبان نے پشتو زبان کی اپنی ویب سائٹ پر اس حملے کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس دھماکے میں ملکی خفیہ ادارے نیشنل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی یا NDS کے ایک یونٹ ’ڈیپارٹمنٹ 10‘ کو نشانہ بنایا گیا۔ افغان انٹیلیجنس کا یہ وہ شعبہ ہے، جو حکومتی وزراء اور وی آئی پی شخصیات کی حفاظت کا کام کرتا ہے۔

اسی دوران طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے یہ دعویٰ بھی کیا ہے کہ اس حملے میں خود کش حملہ آور نے اپنے ٹرک کے ساتھ پہلے این ڈی ایس کے اس شعبے کے دفاتر والی عمارت کے مرکزی دروازے کو دھماکے سے اڑا دیا اور پھر اس کے چند ساتھی بہت سخت حفاظتی انتظامات والی اس عمارت میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

Afghanistan Explosion in Kabul

دھماکے کی جگہ سے فضا میں اٹھتے ہوئے دھوئیں کے گہرے بادل کئی میل دور سے بھی دیکھے جا سکتے تھے

طالبان کے اس موقف کی حکومتی ذرائع نے تصدیق نہیں کی تاہم دھماکے کے بعد فائرنگ کی آوازیں کافی دیر تک سنی گئیں اور دھماکے کی جگہ سے، جو کابل میں امریکی سفارت خانے کی عمارت کے قریب ہی واقع ہے، فضا میں اٹھتے ہوئے دھوئیں کے گہرے بادل کئی میل دور سے بھی دیکھے جا سکتے تھے۔

دیگر رپورٹوں کے مطابق کابل پولیس کے سربراہ جنرل رحیمی نے بتایا کہ آج کے حملے میں زخمی ہونے والوں کی کُل تعداد 327 بنتی ہے۔ انہوں نے یہ اعتراف بھی کیا کہ اس حملے میں عسکریت پسندوں نے ایک سرکاری سکیورٹی ایجنسی کی عمارت کو نشانہ بنایا اور عمارت کے کمپاؤنڈ میں داخل ہو جانے والے شدت پسندوں کے ساتھ سکیورٹی اہلکاروں کا فائرنگ کا تبادلہ کافی دیر تک جاری رہا۔

DW.COM