1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

کابل میں شربت گلا کی تصویروں والے بِل بورڈز آویزاں

معروف جریدے نیشنل جیوگرافک کے سرِ ورق پر شائع ہونے والی تصویر سے شہرت پانے والی افغان مہاجر خاتون شربت گلا پاکستان سے ڈی پورٹ ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر پہلے کے مقابلے میں زیادہ مقبول ہو گئی ہیں۔

Screenshot Sharbat Gulla (https://twitter.com/kalsoomzeb/status/796367195441889280
Twitter/kalsoomzeb )

کابل میں شربت گلا کی آمد پر اُن کی تصاویر سے مزین بِل بورڈ کا سوشل میڈیا میں بہت چرچا ہے

شربت گلا  کا نام گزشتہ دو ہفتوں سے نہ صرف پاکستان کے مقامی ذرائع ابلاغ بلکہ عالمی میڈیا میں بھی ایک بار پھر اس وقت سرخیوں میں آیا، جب پاکستان کے محکمے ایف آئی اے نے سن انیس سو اناسی سے پاکستان میں مقیم اس افغان مہاجر خاتون کو جعلی شناختی دستاویزات رکھنے کے جرم میں حراست میں لیا۔

 گزشتہ ہفتے ایک پاکستانی عدالت نے شربت گلا کو جعلی دستاویزات رکھنے کے الزام میں پندرہ دن قید اور ایک لاکھ دس ہزار روپے جرمانے کی سزا سناتے ہوئے اُن کو پاکستان بدر کیے جانے کے احکامات جاری کیے تھے۔

  بعد ازاں پاکستان کے صوبے خیبر پختون خوا کی جانب سے گلا کو ملک بدر نہ کیے جانے کا بیان سامنے آیا تاہم دو روز قبل نو نومبر کی صبح شربت گلا کو اُن کے چار بچوں سمیت طور خم بارڈر کراسنگ پر افغان حکام کے حوالے کیا گیا۔

افغان صدر اشرف غنی نے عالمی شہرت یافتہ شربت گلا کا کابل کے صدارتی محل میں نہ صرف گرمجوشی سے استقبال کیا بلکہ انہیں ساز وسامان سے آراستہ ایک فلیٹ  دینے کا بھی اعلان کیا گیا۔ کابل میں شربت گلا کی آمد پر جہاں ایک طرف اُن کی تصاویر سے مزین بِل بورڈ کا سوشل میڈیا میں بہت چرچا ہے وہیں گلا کے پاکستان بدر کیے جانے پر آراء اور تبصروں کا سلسلہ بھی زور و شور سے جاری ہے۔

 دوسری جانب پاکستان کے مقامی میڈیا کے مطابق شربت گلا کو جعلی شناختی کارڈ جاری کرنے والے نادرا کے اہلکار کو پشاور میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ پاکستانی روزنامے ڈان نیوز کی رپورٹ کے مطابق کیس کی انکوائری سے پہلے نادرا اہلکار کو گزشتہ سال معطل کیا گیا تھا، جس کے بعد وہ فرار ہوگیا تھا۔ 

 

DW.COM