1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’کابل میں سکیورٹی کی کوئی ضمانت نہیں‘

افغان دارالحکومت میں دو یورپی خواتین پر حملے کی اطلاع ہمیں اس وقت ملی، جب ہم کابل میں نوری، امیر، مجتبیٰ اور عیسیٰ سے محو گفتگو تھے۔ وہ ہمیں بتا رہے تھے کہ کابل میں انہیں اپنی سلامتی سے متعلق کس طرح کے خوف ستاتے ہیں۔

نوری، امیر، مجتبیٰ اور عیسیٰ کو حال ہی میں جرمنی سے واپس افغانستان روانہ کیا گیا تھا۔ وہ سلامتی کی تلاش میں جرمنی مہاجرت اختیار کرنے کی کوشش میں تھے تاہم ان کی پناہ کی درخواستوں کو مسترد کر دیا گیا تھا۔ اب وہ واپس کابل پہنچ چکے ہیں۔ ہمیں جب اطلاع دی گئی کہ کابل میں جنگجوؤں نے ایک جرمن امدادی کارکن خاتون کو ہلاک جبکہ اور فن لینڈ کی ایک خاتون کو اغوا کر لیا ہے تو اس وقت ہم انہی کے ساتھ محو گفتگو تھے۔

کابل، حملے میں جرمن خاتون ہلاک

قندوز پر ایک بار پھر طالبان کے قبضے کا شدید خطرہ

کابل میں نیٹو قافلے پر خود کش حملہ، آٹھ ہلاک

یہ خبر ہمارے لیے ایک دھچکا ثابت ہوئی۔ تمام حملے ہی بھیانک ہوتے ہیں، چاہے وہ پیرس میں ہوں یا کابل میں یا پھر برلن، برسلز یا نیس میں۔ کابل کے اس تازہ حملے کے بارے میں ابھی تک تفصیلات عام نہیں ہوئی ہیں۔ بس اتنا ہی پتہ چلا ہے کہ ایک جرمن امدادی کارکن ہلاک جبکہ ایک فینش اغوا کر لی گئی ہے۔ ہم افغان حکومت کے ساتھ رابطے میں ہیں جبکہ شوشل میڈیا پر اس حوالے سے خبروں کو دیکھ رہے ہیں۔

سوشل میڈیا کے ذریعے ہم  اپنی گھر والوں کو بتا رہے ہیں کہ ہم یہاں کابل میں بخریت ہیں۔ ہمیں دوستوں اور عزیزوں سے ٹیلی فون اور پیغامات بھی موصول ہو رہے ہیں۔ ہم انہیں بھی اپنی خیریت کے بارے میں مطلع کر رہے ہیں۔ جرمنی سے ڈی پورٹ کے جانے والے نوری، امیر، مجتبیٰ اور عیسیٰ اب جرمن زبان سمجھتے ہیں۔ انہیں معلوم ہے کہ ہم کیا باتیں کر رہے ہیں اور کیا سوچ رہے ہیں۔ اسی دوران ہم اپنی صحافتی ذمہ داریاں بھی نبھا رہے ہیں۔

’آپریشن مرسی‘ کے اہلکاروں پر یہ حملہ کابل میں غیر ملکیوں پر کوئی پہلا حملہ نہیں ہے۔ ماضی میں بھی ایسے کئی حملے ہو چکے ہیں۔ تاہم زیادہ تر حملوں میں افغان شہری ہی نشانہ بنتے ہیں، جو ایک انتہائی افسوس کی بات ہے۔ رواں برس کے دوران افغانستان میں طالبان کے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔ سات بڑے حملے صرف کابل میں ہی کیے گئے ہیں، جن میں سینکڑوں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔ ایسے حملوں کی ذمہ داری یا تو طالبان نے قبول کی یا انتہا پسند تنظیم داعش نے۔

ہم کچھ دن قبل ہی افغانستان پہنچے تھے، جہاں ہماری ملاقاتیں کئی افراد سے ہوئیں۔ یہ لوگ پرسکون دکھائی دیے لیکن اس تازہ حملے نے واضح کر دیا ہے کہ ہمیں محسوس ہونے والا سکون صرف ایک دھوکا ہی ہے اور یہ کہ افغانستان میں سکیورٹی کی ضمانت نہیں دی جا سکتی ہے۔ دہشت گردی اور تشدد افغان دارالحکومت کابل کی روزمرہ زندگی کا حصہ ہیں۔ یہاں منظم جرائم پیشہ گروہ بھی فعال ہیں اور اغوا برائے تاوان ایک منافع بخش بزنس۔

ہم اس ملک میں صحافت کرنے آئے ہیں۔ ہم نے کابل کی روزمرہ زندگی کو اپنی کہانیوں میں بیان کرنا ہے۔ ہم اس شورش زدہ ملک میں پہلے بھی کئی مرتبہ آ چکے ہیں۔ یہ ملک جنگ زدہ ہے۔ یہاں گزشتہ سولہ برس سے غیر ملکی فوجی بھی تعینات ہیں۔ عالمی کوششوں کے باوجود بھی اس ملک میں امن قائم نہیں ہو سکا ہے۔

DW.COM