1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کابل میں خود کش حملہ،27 پولیس کیڈٹس ہلاک

افغانستان کے دارالحکومت کابل کے نواح میں افغان نیشنل پولیس کے کیڈٹس کی بس پر دو خودکش بمباروں کی جانب سے کیے گئے حملے میں 27 پولیس کیڈٹس ہلاک ہوگئے ہیں۔

Afghanistan Selbstmordanschlag bei Kabul

افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کئی ہلاکتوں اور متعدد افرد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے

خبر رساں ایجنسی روئٹرز کی ایک رپورٹ کے مطابق دوخودکش بمباروں نے افغانستان کے صوبے وردک سے کابل کی طرف آنے والی تین بسوں کو نشانہ بنایا۔ مقامی پولیس اہلکار نے روئٹرز کو بتایا، ’’ ہماری اطلاعات کے مطابق دو خود کش بمباروں نے بسوں پر حملہ کیا اور اس حملے میں متعدد ہلاکتیں ہوئی ہیں۔‘‘ اس حملے میں 40 افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں۔

افغانستان کی وزارت داخلہ کے ایک اہلکار کے مطابق اس حملے میں اب تک 27 افراد کی ہلاکتوں کی تصدیق ہو چکی ہے۔ خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق افغان طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے کئی ہلاکتوں اور متعدد افرد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے۔ واضح رہے کہ سن 2001 میں امریکی اتحادی افواج کی جانب سے طالبان کی حکومت کا تختہ الٹائے جانے کے بعد سے طالبان کابل حکومت کے ساتھ جنگ لڑ رہے ہیں۔

Afghanistan Selbstmordanschlag in Kabul

اس ماہ کے آغاز میں امریکی صدر باراک اوباما نے امریکی افواج کو افغان فوج کے ساتھ مل کر طالبان کے خلاف لڑنے کی ہدایات جاری کی تھیں

سن 2014 میں بین الاقوامی افواج کے انخلاء کے بعد سے افغانستان میں طالبان کے حملوں اور اس کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ دس روز قبل نیپال کے سکیورٹی گارڈز کی ایک بس پر بھی حملہ کیا گیا تھا۔ یہ گارڈز کابل میں کینیڈا کے سفارتخانے میں کام کرتے تھے۔ اس حملے میں 14 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس برس اپریل میں طالبان کی جانب سے کابل میں سکیورٹی سروسز فراہم کرنے والے ادارے پر کیے گئے ایک حملے میں 64 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ اس حملے کو سن 2011 کے بعد سب سے ہلاکت خیزقرار دیا گیا تھا۔

اس ماہ کے آغاز میں امریکی صدر باراک اوباما نے امریکی افواج کو افغان فوج کے ساتھ مل کر طالبان کے خلاف لڑنے کی ہدایات جاری کی تھیں۔

DW.COM