1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کابل میں خودکش حملہ،کم از کم 40 ہلاک

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک سے زائد بم دھماکوں میں کم از کم 40 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔ ان حملوں کی ذمہ داری افغان طالبان کے علاوہ ’اسلامک اسٹیٹ‘ نے بھی قبول کرنے کا اعلان کیا ہے۔

افغان وزارت صحت کے مطابق کابل کے ثقافتی مرکز پر کیے خود کش حملے میں 35 مرد، چار خواتین اور دو بچے ہلاک ہوئے ہیں۔ قبل ازیں ایسا بتایا گیا تھا کہ ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 35 ہے۔

 یہ بم دھماکے کابل کے مغربی حصے میں واقع ایک شیعہ ثقافتی مرکز پر ہوئے۔ افغان وزارت داخلہ کے ترجمان نصرت رحیمی کا کہنا ہے کہ ایک خودکش بمبار نے ثقافتی مرکز میں داخل ہو کر، اُس جگہ اپنی بارودی جیکٹ اڑائی جہاں کسی تقریب کے لیے لوگ جمع تھے۔

افغانستان نے بھارت کے لیے دوسری فضائی راہ داری کھول دی

مائیک پینس غیراعلانیہ دورے پر افغانستان میں

پاکستانی اور افغان وزرائے خارجہ چین میں

افغانستان کے لیے جرمن فوجیوں میں اضافہ ممکن ہے، گابریئل

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ ہلاک شدگان میں سے بیشتر کا تعلق شیعہ کمیونٹی سے ہے۔ اس ابتدائی خودکش حملے کے بعد کلچرل سینٹر کے باہر بھی دو دھماکے ہوئے۔ مرکز کے باہر بھی لوگ جمع تھے اور وہ بھی اِن دھماکوں کا نشانہ بنے۔ افغان وزارتِ داخلہ کے ترجمان نے تیس زخمی بھی بتائے ہیں۔

کابل پولیس نے ہلاکتوں کی تعداد پچیس اور زخمی افراد بتیس بتائے ہیں۔ پولیس کے مطابق ابھی حملے کے مقام سے ملبہ ہٹانے کا سلسلہ جاری ہے اور ہلاکتوں میں اضافے کا قوی امکان ہے۔ یہ ثقافتی مرکز ایک میڈیا کمپنی افغان وائس ایجنسی کے پہلو میں واقع ہے۔

Afghanistan Anschlag in Kabul auf Afghan Voice (Reuters/M. Ismail)

کابل میں ہونے والے متعدد بم دھماکوں میں چالیس افراد ہلاک ہوئے ہیں

کلچرل سینٹر میں افغانستان میں سابقہ سوویت یونین کی فوج کشی کی اڑتیس برس مکمل ہونے کی خصوصی تقریب کا اہتمام کیا گیا تھا۔ بعض ماہرین کا خیال ہےکہ حملے کا نشان اصل میں میڈیا گروپ تھا

 کئی زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے اور اس باعث ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔ افغانستان میں مسلسل سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے طالبان نے اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے

طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے کلچرل سینٹر پر کیے گئے حملے کا ٹویٹ کیا۔ اب افغانستان میں زور پکڑتی جہادی تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ نے بھی اس حملے کی ذمہ داری قبول کر لی ہے۔

DW.COM