کابل میں امریکی یونیورسٹی پر حملہ | حالات حاضرہ | DW | 24.08.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کابل میں امریکی یونیورسٹی پر حملہ

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں قائم امریکی یونیورسٹی پر عسکریت پسندوں نے حملہ کیا ہے۔ دھماکوں کی آوازیں دور دور تک سنی گئیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق امیریکن یونیورسٹی پر ہونے والے اس حملے کے دوران فائرنگ اور دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں اور یونیورسٹی کا غیر ملکی عملہ اور سینکڑوں طلبہ اندر پھنس کر رہ گئے ہیں۔ افغان وزارت داخلہ کے ایک سینیئر اہلکار نے روئٹرز کو بتایا کہ افغان فورسز نے یونیورسٹی کمپاؤنڈ کو چاروں طرف سے گھیر لیا ہے اور فائرنگ کا سلسلہ جاری ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق حملہ شروع ہونے کے وقت اس کا ایک پریس فوٹوگرافر وہاں کلاس میں موجود تھا۔ مسعود حسینی نامی اس صحافی کے مطابق وہ 15 دیگر طلبہ کے ساتھ کلاس میں موجود تھا جب کیمپس کے شمالی حصے میں ایک دھماکا ہوا۔ ’’میں نے کھڑکی سے باہر جھانک کر دیکھا تو عام کپڑوں میں ملبوس ایک شخص نے مجھ پر فائرنگ کر دی جس سے کھڑکی کے شیشے ٹوٹ گئے۔‘‘ حسینی کے مطابق وہ شیشے لگنے سے زخمی بھی ہو گیا۔

اس یونیورسٹی کے صدر مارک انگلش نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا کہ مقامی وقت کے مطابق شام سات بجے ہونے والے اس دھماکے اور حملے کے کچھ دیر بعد سکیورٹی فورسز موقع پر پہنچ گئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ صورت حال کا جائزہ لینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

دیگر عینی شاہدین کے مطابق انہوں نے بھی دھماکے اور فائرنگ کی آوازیں سنیں۔ کابل کے مشرقی حصے میں قائم اس یونیورسٹی پر حملے کے فوری بعد ایمبولینسیں بھی وہاں پہنچ گئیں تاہم ابھی تک یہ واضح نہیں کہ کتنے افراد زخمی ہوئے ہیں۔

پولیس ترجمان صادق صدیقی کے مطابق سکیورٹی فورسز کیمپس میں داخل ہو چکی ہیں اور ’دہشت گردوں کو تلاش کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ پولیس یونیورسٹی کیمپس سے انتظامیہ اور طلبہ کو نکالنے کا کام بھی کر رہی ہے۔ تاہم صدیقی کے پاس اس حملے کی نوعیت کے بارے میں زیادہ تفصیلات نہیں تھیں۔

ایسوسی ایٹڈ پریس کے صحافی مسعود حسینی کے مطابق طلبہ نے خود کو کمروں میں بند کر لیا اور دروازوں کے آگے میزیں اور کرسیاں رکھ دیں۔ ان کا کہنا تھا کہ قریب نو طلبہ کیمپس کے شمالی حصے میں ایمرجنسی گیٹ سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔ ’’ہم جب دوڑ کر نکل رہے تھے تو ہم نے ایک شخص کو منہ کے بل زمین پر گرے ہوئے دیکھا۔ بظاہر یوں لگتا تھا کہ اس کی پشت میں گولی لگی ہے۔‘‘

دو ہفتے قبل ہی اس یونیورسٹی کے دو اساتذہ کو جن میں سے ایک کا تعلق امریکا اور دوسرے کا آسٹریلیا سے تھا، مسلح افراد نے اغواء کر لیا تھا۔ اغواء شدگان کا ابھی تک کوئی نشان نہیں ملا۔

طالبان گزشتہ 15 برس سے کابل حکومت کے خلاف لڑ رہے ہیں اور غیر ملکی شہری ان کا آسان ہدف ثابت ہوتے ہیں۔