1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کابل میں امریکی سفارت خانے کے قریب دھماکا، پانچ افراد ہلاک

افغانستان کے دارالحکومت کابل میں امریکی سفارت خانے کے قریب ہونے والے ایک خودکُش بم دھماکے میں کم از کم پانچ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے ہیں۔ دوسری جانب ایک حکومتی فضائی حملے میں کم از کم 13 افغان شہری مارے گئے ہیں۔

گزشتہ تین ماہ کے دوران دارالحکومت کابل میں پے در پے حملے ہوئے ہیں۔ تین ماہ پہلے بھی اسی علاقے میں ایک ٹرک بم حملہ ہوا تھا، جس کے نتیجے میں تقریبا ایک سو پچاس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ افغان وزارت داخلہ کے ایک ترجمان نجیب دانش کا نیوز ایجنسی اے اہف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’ صبح دس بجے کے قریب ایک حملہ آور نے خود کو دھماکا خیز مواد سے اڑا دیا۔ یہ دھماکا مسعود چوک کے قریب واقع ایک نجی بینک کے قریب ہوا ہے۔‘‘

انہوں نے اپنے ٹوئٹر پیغام میں چار افراد کے ہلاک ہونے کی تصدیق کی ہے لیکن میڈیا اطلاعات کے مطابق پانچ افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے ہیں۔ طبی ذرائع نے ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا ہے۔ یہ بم دھماکا اس وقت ہوا، جب بہت سے حکام عید سے پہلے اپنی تنخواہیں لینے کے لیے بینک پہنچ رہے تھے۔ کابل بینک عام طور پر سکیورٹی فورسز اور حکومتی عہدیداروں کو تنخواہیں فراہم کرتا ہے۔

ٹرمپ کے بیان نے پاکستانیوں کو تکلیف پہنچائی، عمران خان

دھماکے کے مقام سے امریکی سفارتخانہ اور نیٹو کے مرکزی دفاتر بھی زیادہ دور نہیں ہیں۔ چند روز پہلے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے افغانستان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کا زمہ دار پاکستان کو ٹھہرایا تھا، جس کی اسلام آباد حکومت نے سختی سے تردید کی تھی۔ نئے امریکی صدر افغانستان کی صورتحال میں بہتری لانے کے لیے مزید فوجی افغانستان بھیجنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ نئی امریکی اسٹریٹیجی کا کابل حکومت نے خیر مقدم کیا ہے۔

دریں اثناء افغان فضائیہ کے ایک حملے میں کم از کم تیرہ عام شہری مارے گئے ہیں۔ صوبہ ہرات کے ترجمان فرحاد جیلانی کے مطابق، ’’مغربی افغانستان میں کیے گئے اس حملے میں بیس طالبان بھی ہلاک ہوئے ہیں لیکن بدقسمتی سے قریب ہی عام شہری بھی تھے۔‘‘

دوسری جانب صوبائی کونسل کے رکن حاجی تورالائی طاہری نے کہا ہے کہ صرف عام شہری ہلاک ہوئے ہیں، ’’وہاں کوئی بھی طالبان نہیں مارا گیا ہے۔‘‘ فضائی کارروائیوں میں افغان فضائیہ کو امریکا کی بھی مدد اور حمایت حاصل ہے۔

DW.COM