1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کابل: ’فرانسیسی ریستوراں پر خود کُش حملہ ہم نے کیا‘، طالبان

افغان طالبان نے کابل میں ایک ریستوران پر کیے گئے اُس خود کُش حملے کی ذمے داری قبول کر لی ہے، جس میں کم از کم پانچ شہری زخمی ہو گئے۔ اس کار بم حملے کا ہدف غیر ملکیوں میں مقبول ’لا شارداں‘ نامی ایک فرانسیسی ریستوران تھا۔

Afghanistan Kabul Restaurant Le Jardin de Taimani

’لا شارداں‘ نامی فرانسیسی ریستوراں غیر ملکیوں کے ساتھ ساتھ افغان حکام میں بھی بے حد مقبول تھا

افغان وزارت داخلہ کے ترجمان صدیق صدیقی نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ دھماکا کابل کے علاقے قلعہ فتح اللہ میں ہوا ہے، جہاں ’لا شارداں‘ نامی فرانسیسی ریستوراں غیر ملکیوں کے ساتھ ساتھ افغان حکام میں بھی بے حد مقبول تھا۔ یہ افغان دارالحکومت کے اُن معدودے چند ریستورانوں میں سے ایک تھا، جہاں اب بھی غیر ملکی شہری کثرت سے چلے جایا کرتے تھے۔

یہ واقعہ اسی شہر میں ایک لبنانی ریستوراں پر کیے جانے والے اُس حملے کے تقریباً ایک سال بعد پیش آیا ہے، جس میں تیرہ غیر ملکیوں سمیت اکیس افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

جمعے کے دھماکے کے فوراً بعد پولیس اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد نے اس فرانسیسی ریستوراں کو جانے والے راستے بند کر دیے۔ اس دوران اس ریستوراں کی عمارت جزوی طور پر دھماکے کی وجہ سے لگنے والی آگ کے باعث نمایاں ہو رہی تھی۔

رواں ہفتے کے آغاز پر طالبان نے کابل ایئر پورٹ کے نزدیک ہونے والے اُس خود کُش حملے کی ذمے داری قبول کر لی تھی، جس میں ایک شخص ہلاک اور تینتیس زخمی ہو گئے تھے۔ اس سے ایک ہفتہ قبل ایک حملے میں کابل سے تھوڑی دور بگرام ایئر بیس کے قریب گشت کرنے والے چھ امریکی فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

ایک جانب یہ حملے ہو رہے ہیں اور دوسری جانب طالبان کے ساتھ اُس امن عمل کو بحال کرنے کی کوششیں ہو رہی ہیں، جو جولائی 2015ء میں طالبان کے قائد ملا محمد عمر کے دو سال سے بھی زائد عرصہ قبل انتقال کر جانے کی خبریں منظرِ عام پر آنے کے بعد منقطع ہو گیا تھا۔

Afghanistan Kabul Taimani Bezirk Anschlag Restaurant

دھماکے کے فوراً بعد پولیس اور سکیورٹی فورسز کے اہلکاروں کی ایک بڑی تعداد نے اس فرانسیسی ریستوراں کو جانے والے راستے بند کر دیے

طالبان باغیوں کے ساتھ مذاکرات کے سلسلے میں بنیادی نکات پر بات کرنے کے لیے پاکستان کی میزبانی میں گیارہ جنوری کو مذاکرات ہونے والے ہیں، جن میں پاکستان کے ساتھ ساتھ افغانستان، امریکا اور چین کے بھی نمائندے شرکت کریں گے۔ دوسری جانب طالبان اُس وقت تک ان مذاکرات میں شرکت سے انکار کر رہے ہیں، جب تک تمام غیر ملکی فوجی افغان سرزمین سے چلے نہیں جاتے۔