1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کابل سہ فریقی مذاکرات میں پاکستان شریک نہیں ہو گا، وزارت خارجہ

پاکستان میں قبائلی علاقے میں کیے جانے والے ڈرون حملے میں قبائلی عمائدین کی ہلاکت کا معاملہ سنگین صورت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ وزارت خارجہ نے 26 مارچ کو افغانستان میں ہونے والی ایک اہم میٹنگ کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔

default

پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق شمالی وزیرستان میں کیے جانے والے ڈرون حملے کے رد عمل میں یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔ وزرات خارجہ کے مطابق پاکستان میں امریکی سفیر کیمرون منٹر کو دفتر خارجہ میں طلب کر کے یہ پیغام پہنچا دیا گیا ہے کہ کابل میں اگلے ہفتے ہونے والے اجلاس میں پاکستان شریک نہیں ہو گا۔

پاکستان کی سیاسی اور فوجی قیادت کی جانب سے اس ڈرون حملے کی شدید مذمت کی گئی ہے۔ ساتھ ہی امریکہ سے اس واقعے کی تفصیلات طلب کرتے ہوئے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ پشاور میں خفیہ اداروں نے بتایا کہ شمالی وزیرستان میں کیے جانے والے اس حملے میں 12عسکریت پسند بھی ہلاک ہوئے ہیں تاہم ان کے ساتھ ایک بڑی تعداد میں بے گناہ شہری بھی مارے گئے ہیں۔

UAV Unbemannte Aufklärungsdrohne der US Armee

شمالی وزیرستان میں کیے جانے والے ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والوں میں قبائلی عمائدین اور پولیس اہلکار بھی شامل ہیں

پاکستان، افغانستان اور امریکہ کے سہ فریقی مذاکرات گزشتہ ماہ واشنگٹن میں ہونا تھے تاہم ریمنڈ ڈیوس کی گرفتاری کی وجہ سے امریکی حکام نے اس بات چیت کو ملتوی کر دیا تھا۔ پاکستانی وزارت خارجہ کے مطابق امریکی سفیر پر یہ واضح کیا گیا ہے کہ اس طرح کے ڈرون حملے کسی بھی صورت قابل قبول نہیں ہیں اور یہ بین الاقوامی قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

وزرات خارجہ کے سیکریٹری سلمان بشیر کی امریکی سفیر کے ساتھ ملاقات میں ان کا کہنا تھا،’’پاکستان اور امریکہ کے باہمی تعلقات کے بنیادی نکات پر نظر ثانی کی ضرورت ہے اور پاکستان کو غیر اہم نہ سمجھا جائے۔‘‘ اس موقع پر امریکی سفیر نے کہا کہ وہ پاکستان کا پیغام واشنگٹن حکام تک پہنچا دیں گے۔

اس سے قبل پاکستان کے مختلف شہروں میں ریمنڈ ڈیوس کو رہا کیے جانے کے خلاف مظاہرے ہوئے۔ مظاہرین نے امریکی پرچم نذر آتش کیے اور حکومت پاکستان کے خلاف نعرے بازی کی۔ اسلام آباد میں3 ہزار کے قریب افراد نے احتجاج کیا جبکہ لاہور میں مظاہرین کی تعداد دارالحکومت سے کم تھی۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت : عاطف توقیر

DW.COM

ویب لنکس