1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کابل حکومت بد نیت ہے، حکمت یار

افغان حکومت کو پہلے ہی ملک میں جاری شدت پسندی پر قابو پانے میں مشکلات کا سامنا ہے، اس صورت حال میں سابق افغان جنگجو کمانڈر گلبدین حکمت یار نے کابل انتظامیہ پر اپنے عدم اطمینان کا اظہار کر دیا ہے۔

حزب اسلامی کے سربراہ گلبدین حکمت یار نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ان کی تنظیم اور کابل حکام کے مابین، جس امن معاہدے کی کوششیں کی جا رہی تھیں، اس کا امکان اب عملی طور پر ختم ہو گیا ہے۔ حکمت یار نے افغانستان کے ایک اخبار روزنامہ شہادت سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ افغان حکومت غیر قانونی ہے اور وہ اسے کبھی تسلیم نہیں کریں گے۔

گلبدین حکمت یار کا یہ طویل تنقیدی انٹرویو ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب حزب اسلامی نے افغان حکومت کے ساتھ طے پانے والے امن معاہدے کے مسودے میں تبدیلی کرتے ہوئے نئی شرائط متعارف کرائی ہیں۔ ان میں سے ایک امریکا کے ساتھ دفاع کے شعبے میں ہونے والے معاہدے کو ختم کرنا اور غیر ملکی افواج کے مکمل انخلاء کے حوالے سے حتمی تاریخ کا طے کیا جانا شامل ہے۔

اس تناظر میں حکمت یار کا کہنا تھا کہ افغان حکومت نے ان کو مطلع کیا ہے کہ جہاں تک امریکا سے سکیورٹی معاہدے کا تعلق ہے وہ اسے ختم نہیں کرسکتے یعنی وہ یہ سرخ لکیر عبور کرنے کا اختیار نہیں رکھتے۔ ان کے بقول ان کی بہت کم ہی شرائط افغان حکومت نے تسلیم کی ہیں۔ اس بارے میں کہا جاتا ہے کہ جب گزشتہ ماہ حکمت یار کے نمائندے کابل میں بات چیت مکمل ہونے کے بعد تیار کی جانے والی دستاویز پر متفق تھے اور وہ صرف دستخط کرانے کے لیے اس دستاویز کو حکمت یار کے پاس لائے تھے۔ اس کے بعد حکمت یار نے نئی شرائط کے ساتھ یہ مسودہ کابل حکام کو دوبارہ بھیج دیا۔

افغان صدر اشرف غنی کو امید تھی کہ حکمت یار کے ساتھ امن معاہدہ کے بعد دیگر شدت پسند تنظیموں کو مذاکرات کی میز پر لانے میں مدد ملے گی۔ حکمت یار ملک کے مشرقی اور شمال مشرقی حصے میں فعال ہیں۔ طالبان ان سے زیادہ با اثر ہیں اور حزب اسلامی کے جنگجوؤں اور طالبان کے مابین جھڑپیں بھی ہو چکی ہیں۔