1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کابل حملے کے بعد انگلی حقانی نیٹ ورک اور آئی ایس آئی کی طرف

افغانستان کی خفیہ ایجنسی نے شدت پسند گروہ حقانی نیٹ ورک اور پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کو کابل بم حملے کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔ اس حملے میں 90 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

افغانستان کی خفیہ ایجنسی این ڈی ایس کے ایک بیان میں کہا گیا ہے، ’’بدھ کے روز کابل میں ہونے والے حملے کے پیچھے حقانی نیٹ ورک کا ہاتھ ہے اور حقانی نیٹ ورک نے یہ حملہ آئی ایس آئی کے تعاون سے کیا ہے۔‘‘

پاکستان کے امور خارجہ پر گہری رکھنے والے سابق سینیٹر اکرم ذکی نے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا،’’پاکستان کے وزیراعظم اور آرمی چیف نے اس حملے پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ پاکستان کے سفارت خانے کا عملہ بھی اس حملے میں متاثر ہوا ہے۔ ‘‘ اکرم ذکی کی رائے میں پاکستان، افغانستان اور چین کے درمیان سہہ فریقی مذاکرات کو سبوتاژ کرنے کے عوامل بھی اس حملے میں ملوث ہو سکتے ہیں۔

برطانیہ میں تعینات افغان سفیر طیب جاوید نے بین الاقوامی نیوز چینل سی این این کو دیے جانے والے ایک انٹرویو میں کہا،’’ ہم پاکستان کو یہ سمجھانا چاہ رہے ہیں کہ دہشت گردوں کی حمایت پاکستان اورافغانستان کے مفاد میں نہیں ہے۔ امریکا، نیٹو اورافغانستان سمجھتے ہیں کہ حقانی نیٹ ورک پاکستان کی خفیہ ایجنسی کا آلہ کار ہے۔‘‘

پاکستانی فوج کے ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل طلعت مسعود نے اس حوالے سے ڈی ڈبلیو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا،’’عین ممکن ہے کہ حقانی نیٹ ورک اس حملے میں ملوث ہو لیکن وہ تنہا ہی افغانستان کی سر زمین کو استعمال کرتے ہوئے  حملے کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔‘‘ طلعت مسعود کے بقول پاکستان اور افغانستان کے تعلقات انتہائی اہم ہے۔ لیکن افغانستان کو پاکستان کی نیت پر بھروسہ نہیں ہے اور افغانستان میں بھی ایسی ایک لابی ہے جو دونوں ممالک کے اچھے تعلقات کے حامی نہیں ہے۔

اس حملے کے بعد پاکستان اور افغانستان میں کشیدگی کی ایک مثال افغان کرکٹ بورڈ کی جانب سے پاکستان کے ساتھ دوستانہ ٹی ٹوئٹی میچوں کو منسوخ کرنا بھی ہے۔ گزشتہ روز افغان کرکٹ بورڈ کی جانب سے ایک ٹوئٹ میں  لکھا گیا ،''افغان کرکٹ بورڈ پاکستان کرکٹ بورڈ کے ساتھ طے پانے والے میچوں اور کرکٹ کے تعلقات کو منسوخ کرتی ہے۔‘‘ اس فیصلے پر پاکستان کےنامور اسپورٹس جرنلسٹ فیضان لکھانی نے تبصرہ کرتے ہوئے اپنی ایک ٹوئٹ میں لکھا، ’’یہ بہت حیران کن بات ہے کہ افغانستان کرکٹ بورڈ نے ایک سیاسی بیان جاری کیا ہے اور کابل واقعے کے بعد پاکستان کے ساتھ کرکٹ میچوں کو منسوخ کر دیا ہے۔‘‘

 طلعت مسعود دونوں ممالک میں تناؤ کا حل مسلسل مذکرات کو سمجھتے ہیں۔ انہوں نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’دونوں ممالک کو مذاکرات کے ذریعے ہی شک کو دور کرنا ہوگا۔ اگر ان دونوں ممالک نے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون نہ کیا اور ایسی پالیسیاں نہ اپنائیں، جو دونوں کے مفاد میں ہیں تو پاکستان اور افغانستان دونوں ہی کا نقصان ہو گا۔‘‘

DW.COM