1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کابل حملے میں چار سو سے زائد افراد ہلاک یا زخمی

افغان دارالحکومت میں ہوئے ٹرک بم حملے کے نتیجے میں چار سو سے زائد افراد ہلاک یا زخمی ہو گئے ہیں۔ اس حملے میں جرمن اور فرانسیسی سفارتخانے بھی متاثر ہوئے۔ طالبان نے اس خونریز حملے کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے افغان وزارت صحت کے حوالے سے بتایا ہے کہ اکتیس مئی بروز بدھ کابل کے زنباق اسکوائر کے نزدیک ہونے والے اس ٹرک یا کار بم حملے کے باعث کم از کم اسّی افراد ہلاک جبکہ قریب ساڑھے تین سو زخمی ہوئے ہیں۔ شہر کے اسی علاقے میں حکومتی دفاتر کے علاوہ افغان صدر کا دفتر بھی ہے۔ اسی علاقے میں جرمن اور فرانسیسی سفارتخانے بھی واقع ہیں، جو اس حملے میں متاثر ہوئے۔

کابل کے سفارتی علاقے میں کار بم حملہ: نو افراد ہلاک، سو زخمی

رواں برس کے دوران ایک لاکھ سے زائد افغان شہری بے گھر

’کابل میں سکیورٹی کی کوئی ضمانت نہیں‘

اے ایف پی نے وزارت صحت کے ترجمان  وحید مجروح کے حوالے سے بتایا ہے، ’’بدقسمتی سے 80 افراد شہید ہوئے ہیں جبکہ تین سو زائد زخمی ہیں۔ ان میں بچے اور خواتین بھی شامل ہیں۔ کئی زخمیوں کی حالت نازک ہے اور اس لیے ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے کا خدشہ ہے۔‘‘ دوسری طرف کچھ خبر رساں اداروں نے اس طاقت ور بم حملے میں ہلاکتوں کی تعداد چونسٹھ بھی بتائی ہے۔

میڈیا رپورٹوں کے مطابق دھماکا اتنا شدید تھا کہ قریبی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچا جبکہ تیس گاڑیاں بھی مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔ طبی ذرائع کے مطابق خدشہ ہے کہ کئی لوگ ملبے تلے دبے ہوئے ہیں، جنہیں نکالنے کے لیے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔ ملکی وزارت صحت کے مطابق خدشہ ہے کہ ہلاکتوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔

جرمن وزیر خارجہ زیگمار گابریئل نے تصدیق کر دی ہے کہ کابل میں ہوئے اس حملے کی وجہ سے وہاں واقع جرمن سفارتخانہ بھی متاثر ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس واقعے میں عمارت کے باہر موجود افغان سکیورٹی گارڈ مارا گیا جبکہ عملے کے دیگر مقامی ارکان بھی زخمی ہوئے ہیں۔ تاہم اس بارے میں زیادہ معلومات دستیاب نہیں۔

دوسری طرف فرانسیسی وزارت خارجہ نے بھی تصدیق کر دی ہے کہ اس دھماکے کے باعث کابل میں فرانس کے سفارتخانے کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ تاہم پیرس حکومت نے ابھی تک یہ نہیں بتایا کہ اس حملے میں اس کے عملے کا کوئی رکن بھی زخمی یا ہلاک ہوا ہے یا نہیں۔

ادھر افغان طالبان نے اس تازہ بم حملے کی ذمہ داری قبول کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق ان کی تحریک اس حملے میں ملوث نہیں ہے۔ انہوں نے ایسے خونریز حملوں کی مذمت بھی کی، جن میں شہریوں کی ہلاکت ہوتی ہے۔ یہ امر اہم ہے کہ طالبان کی پرتشدد کارروائیوں میں شہری ہلاکتیں بھی ہوتی رہتی ہیں۔

دریں اثناء افغان صدر اشرف غنی نے اس حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ پاکستان کی طرف سے بھی اس خونریز کارروائی پر کابل حکومت کے ساتھ اظہار افسوس کیا گیا ہے۔ پاکستان کے علاوہ دیگر ایشیائی اور مغربی ممالک نے بھی انسانی جانوں کے اتنے زیادہ ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔

DW.COM