1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کابل حملہ: عالمی سطح پر مذمت

بھارتی حکومت نے افغان دارالحکومت کابل میں اپنے سفارت خانے پر ایک خودکش کار بم حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

default

افغان دارالحکومت کابل میں بھارتی سفارت خانے کے باہر افغان سیکورٹی اہلکار پہرہ دیتے ہوے

افغانستان میں پیر کے روز ہونے والے خودکش کار بم حملے کی نہ صرف افغانستان‘ پاکستان اور بھارت کی حکومتوں نے مذمت کی ہے بلکہ امریکہ اور کئی یورپی ممالک نے بھی اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

کابل میں واقع بھارتی سفارت خانے پر پیر کے روز ہونے والے حملےمیں‘ سفارت خانے کے چار اہلکاروں سمیت‘ کم از کم اکتالیس افراد ہلاک جبکہ ایک سو چالیس سے زائد دیگر زخمی ہو گئے۔

Manmohan Singh

بھارتی وزیر اعظم منموہن سنگھ نے کابل کار بم حملے شدید الفاظ میں مذمت کی

جاپان میں جاری آٹھ صنعتی ممالک‘ یعنی جی ایٹ‘ کی کانفرنس میں شریک بھارتی وزیر اعظم ڈاکٹر منموہن سنگھ نے اپنے ایک بیان میں کابل کار بم حملے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ایک بیہمانہ دہشت گردانہ حملہ قرار دیا ہے۔

'مجھے کابل میں واقع ہمارے سفارت خانے پر ہونے والے دہشت گردانہ حملے میں اپنے ساتھیوں کی ہلاکت پر سخت افسوس ہے۔'

انہوں نے مذید کہا کہ اس حملے میں ہلاک ہونے والے افغان اور بھارتی باشندوں کی ہلاکت کی ہر ممکنہ طریقے سے مذمت کی جانی چاہئیے۔

بھارتی وزیر خارجہ پرناب مکھر جی نے اس واقعے کے بارے میں کہا: 'مجھے اس بات کا انتہائی افسوس ہے کہ کابل خود کش بم حملے میں ہمارے کچھ افسران ہلاک ہو گئے ہیں۔ حکومت لواحقین کے رنج و غم میں شریک ہے۔ دہشت گردی کے ایسے واقعات ہمیں افغانستان میں تعمیر نو اور بحالی کے کاموں سے روک نہیں سکتے ہیں۔'

کابل کار بم حملے کی تفصیلات:

دھماکے کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں میں سفارت خانے کے عملے اور سکیورٹی اہلکاروں کے علاوہ کئی شہری بھی شامل بتائے جاتے ہیں۔

پیر کی صبح کابل شہر کے مرکزی علاقے میں واقع بھارتی سفارتحانے پرایک حملہ آور نے دھماکہ خیز مواد سے سے بھری ایک کار سفارت خانے کے گیٹ سے ٹکرادی جس کے نتیجے میں ایک زوردار دھماکہ ہوا۔ دھماکہ اس قدر شدید تھا کہ سفارت خانے کی عمارت کو زبردست نقصان پہنچا جبکہ باہر کھڑی دو گاڑیاں تباہ ہوگئیں۔

Tote bei Anschlag vor indischer Botschaft in Kabul

کار بم حملے کے نتیجے میں بھگدڑ کا منظر

سن دو ہزار ایک میں افغانستان میں امریکی فوجی مداخلت کے بعد مذکورہ حملہ بدترین خود کش حملہ تصور کیا جارہا ہے۔

عالمی سطح پر مذمت:

افغانستان میں پیر کے روز ہونے والے خودکش حملے کی نہ صرف افغانستان اور بھارت کی حکومتوں نے مذمت کی ہے بلکہ امریکہ اور کئی یورپی ممالک نے بھی اس کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔

افغان صدر حامد کرذئی نے اس بم حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا: 'ملک دشمن عناصر بھارت۔ افغان تعلقات پر منفی اثرات مرتب کرنا چاہتے ہیں لیکن یہ عناصر اپنے ناپاک عزائم میں ہرگز کامیاب نہیں ہوں گے۔'

دھماکے کے فوراً بعد افغان سیکورٹی اہلکاروں نے جائے وقوعہ کو چاروں طرف سے نے گھیر لیا۔ یہ صورتحال بعض مقامی لوگوں کے لئے پریشانی کا باعث بنی۔

کابل میں موجود بھارتی سفارت خانے کے نزدیک یہ دوسرا خودکش حملہ ہے۔ اس سے قبل دسمبر سن دو ہزار چھہ میں ایک خودکش حملہ آور نے افغان وزارت داخلہ کی عمارت کو نشانہ بنایا تھا۔ اس واقعہ میں بارہ افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے تھے۔

ملتے جلتے مندرجات