1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کابل اور دیگر حالیہ حملوں میں کوئی ہاتھ نہیں، حقانی نیٹ ورک

افغانستان میں طالبان کے دوسرے اہم ترین رہنما اور حقانی نیٹ ورک کے سربراہ نے کابل اور افغانستان کے مغربی حصے میں ہونے والے حالیہ خونریز حملوں سے کسی قسم کی وابستگی یا شمولیت کی تردید کی ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق سراج الدین حقانی کی طرف سے اتوار 11 جون کو دیر گئے جاری کیے جانے والے ایک آڈیو پیغام میں کابل میں 31 مئی کو ہونے والے خودکش ٹرک بم حملے کی مذمت کی گئی ہے۔ اس دھماکے میں کم از کم 150افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس حملے کے بعد دیگر کئی حملے ہوئے جن میں مرنے والوں کے جنازے پر حملہ اور پھر افغان صوبہ ہرات میں ایک مسجد کے قریب کیا جانے والے دہشت گردانہ حملہ بھی شامل ہیں۔

افغان سکیورٹی حکام نے کابل حملے کی ذمہ داری حقانی نیٹ ورک پر عائد کی تھی۔ تاہم سراج الدین حقانی نے یہ بات زور دے کر کہی ہے کہ طالبان نے ان میں سے کوئی بھی حملہ نہیں کیا۔ حقانی کا یہ بھی کہنا تھا کہ طالبان کسی ایسے حملے کا منصوبہ نہیں بناتے جس میں عام شہریوں کو نقصان پہنچتا ہو۔ ان تینوں حملوں میں سے کسی کی بھی ذمہ داری ابھی تک کسی نے قبول نہیں کی۔

افغان صدر اشرف غنی نے گزشتہ ہفتے کابل میں ہونے والے ٹرک بم حملے کے نتیجے میں 150 ہلاکتوں کی تصدیق کی تھی۔ امریکا کی طرف سے افغانستان میں طالبان کو شکست دینے کے لیے شروع کی جانے والی مہم کے آغاز سے اب تک کے 16 برسوں کا یہ خونریز ترین دہشت گردانہ حملہ تھا۔ اس حملے میں 300 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے۔

افغان حکام نے کابل حملے کی ذمہ داری حقانی نیٹ ورک اور پاکستان پر عائد کی تھی تاہم اسلام آباد حکومت نے ان الزامات کی تردید کی۔ دونوں ہمسایہ ممالک اکثر ایک دوسرے پر الزام عائد کرتے رہتے ہیں کہ وہ سرحد کے آر پار حملے کرنے والے عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی نہیں کر رہے۔ افغانستان میں حالیہ برسوں کے دوران داعش نے جگہ بنا لی ہے اور ملک میں کئی بڑے حملے کر چکی ہے۔

سراج الدین حقانی نے اپنے صوتی پیغام میں کہا کہ طالبان حالیہ دہشت گردانہ حملوں میں تو ملوث نہیں ہیں تاہم اس کے جنگجو اس وقت تک جنگ کرتے رہیں گے جب تک ’’غیر ملکی حملہ آور‘‘ افغانستان کو چھوڑ نہیں دیتے۔

DW.COM