کابل اور اسلام آباد: الزامات اور تردید کا تبادلہ جاری | حالات حاضرہ | DW | 15.07.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کابل اور اسلام آباد: الزامات اور تردید کا تبادلہ جاری

افغان خفیہ ادارے کے سابق سربراہ رحمت اللہ نبیل نے پاکستان پر دہشت گردی میں معاونت فراہم کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ وہ اس سلسلے میں ثبوت بھی فراہم کر سکتے ہیں۔ پاکستان نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔

افغان خفیہ ادارے کے سابق سربراہ رحمت اللہ نبیل کے مطابق ان کے پاس ایسے دستاویز موجود ہیں، جن سے وہ ثابت کر سکتے ہیں کہ افغانستان میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں میں پاکستان کا ہاتھ ہے۔ تولو ٹی وی کی ویب سائٹ پر اور اپنے فیس بک صفحے پر انہوں نے اس حوالے سے چھ ایسی دستاویز جاری بھی کی ہیں جن میں پاکستانی خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے ایسے مبینہ خطوط بھی شامل ہیں، جن میں کابل میں حملہ کرنے والے چار افراد کو معاوضہ دینے کا تذکرہ کیا گیا ہے۔

ایک خط میں 2014ء میں کابل کے ہوائی اڈے پر کیے جانے والے ایک حملے کے معاوضے کے طور پر چوبیس ہزار امریکی ڈالر کی رقم چار افراد میں تقسیم کرنے کے لیے کہا گیا ہے جبکہ جاری کی جانے والی دوسری دستاویز میں حقانی نیٹ ورک کے دو کمانڈروں کو پاکستانی فوج کے یونیفارم میں ملبوس اور فوجی گاڑیوں میں ایک چھاؤنی میں لے جانے کا ذکر کیا گیا ہے۔

پاکستانی دفتر خارجہ کے ایک اہلکار نے نام خفیہ رکھنے کی شرط پر خبر رساں ادارے ڈی پی اے کو بتایا کہ افغان خفیہ ادارے کے سابق سربراہ رحمت اللہ نبیل کی جانب سے پیش کیے جانے والے شواہد جعلی ہیں۔ اس بیان میں کہا گیا کہ کوئی بھی خفیہ ایجنسی ایسے خط نہیں لکھتی یا اس طرح کا کوئی ریکارڈ نہیں رکھتی، جن میں دہشت گردوں کو معاوضہ ادا کرنے کا ذکر ہو،’’ کچھ افغان اہلکار اس طرح کے الزامات عائد کرتے ہوئے ذرائع ابلاغ میں ہنگامہ برپا کرنا چاہتے ہیں۔‘‘ پاکستانی خفیہ ادارے سے تعلق رکھنے والے ایک اور اہلکار نے کہا کہ یہ دونوں خط حیرت انگیز اور مضحکہ خیز ہیں، ’’ دنیا کی کوئی بھی ایجنسی اس قسم کے حساس ثبوت تحریری طور پر پیچھے نہیں چھوڑتی۔‘‘ شناخت پوشیدہ رکھتے ہوئے اس اہلکار کا کہنا تھا کہ ان خطوط کو نظر انداز کیا جائے۔

افغان صدر اشرف غنی کی پاکستان سے قربت بڑھانے کی کوششوں پر احتجاج کرتے ہوئے رحمت اللہ نبیل گزشتہ برس دسمبر میں اپنے عہدے سے مستعفی ہو گئے تھے۔ تاہم اسلام آباد انتظامیہ پر اس سے قبل بھی افغان طالبان کی پشت پناہی کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ حقانی گروپ کے آئی ایس آئی سے انتہائی قریبی روابط ہیں۔ حقانی کا شمار افغانستان کے خطرناک ترین گروپوں میں ہوتا ہے۔ افغان خفیہ ادارے کی جانب سے ابھی تک اس معاملے پر باقاعدہ کوئی تبصرہ سامنے نہیں آیا ہے۔