1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’کابل،طالبان مذاکرات پاکستان نے ختم کرائے‘

امریکی اخبار نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ کے مطابق کابل حکومت کے ساتھ طالبان کے مذاکرات بند کرانے میں پاکستان کا ہاتھ ہو سکتا ہے اور اس بات کے واضح اشارے موجود ہیں۔

default

اخبار کا کہنا ہے کہ رواں برس کے آغاز پر طالبان کے کمانڈر عبدالغنی برادر کی کراچی میں گرفتاری اسی سلسلے کی ایک کڑی ہو سکتی ہے۔

Logo CIA Central Intelligence Agency

پاکستانی اہلکاروں نے برادر کی گرفتاری کے لئے سی آئی اے کے ساتھ مل کر کارروائی کی، نیویارک ٹائمز

عبدالغنی برادر افغان طالبان کے کمانڈر ملاّ محمد عمر کا نمبر دو ہے۔ اسے پاکستان کے جنوبی بندرگاہی شہر کراچی میں رواں برس جنوری میں گرفتار کیا گیا تھا۔ بتایا جاتا ہے کہ اس خفیہ آپریشن میں پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں کے ساتھ امریکی انٹیلی جنس ایجنسی ’سی آئی اے‘ کے ارکان بھی شامل رہے جبکہ برادر کی گرفتاری کو طالبان کے لئے ایک بڑا دھچکا قرار دیا گیا۔

نیویارک ٹائمز نے نامعلوم پاکستانی عہدے داروں کے حوالے سے بتایا ہے کہ پاکستانی انٹیلی جنس حکام نے سی آئی اے کی مدد سے برادر کی گرفتاری کا منصوبہ بنایا، جس کا مقصد برادر اور افغان حکومت کے درمیان خفیہ امن مذاکرات کا ‌خاتمہ تھا۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان مذاکرات سے پاکستان کو خارج رکھا گیا تھا۔

اس رپورٹ کے مطابق برادر کی گرفتاری کے کچھ عرصہ بعد پاکستانی سکیورٹی اہلکاروں نے طالبان کے 23 رہنما حراست میں لئے، جن میں سے متعدد کو برسوں تک اسلام آباد کا تحفظ حاصل رہا۔

اخبار لکھتا ہے کہ پاکستان میں طالبان رہنماؤں کے خلاف اس کریک ڈاؤن سے مذاکرات ختم ہو گئے جبکہ برادر کی گرفتاری اور اس سے متعلقہ حالات و واقعات عسکری اور انٹیلی جنس حلقوں میں مہینوں تک موضوع بحث رہے۔

رپورٹ میں ایک پاکستانی اہلکار کے حوالے سے بتایا گیا، ’ہم نے برادر اور دیگر افراد کو اس لئے پکڑا کیونکہ وہ ہمیں شامل کئے بغیر معاہدہ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔‘

Mutmaßlicher Taliban Leiter Abdullah alias Abu Waqas

کراچی میں برادر سے پہلے طالبان کے مشتبہ کمانڈر عبداللہ عرف ابو وقاض کو بھی گرفتار کیا گیا

اس اہلکار نے افغان صدر حامد کرزئی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا، ’ہم طالبان کو تحفظ دیتے ہیں۔ ان کا انحصار ہم پر ہے۔ ہم انہیں کرزئی یا بھارتیوں کے ساتھ کوئی معاہدہ نہیں کرنے دیں گے۔‘

بعض امریکی عہدے داروں کے مطابق ایسا ہو سکتا ہے کہ پاکستانی خود کو زیادہ بااثر ثابت کرنا چاہتے ہیں۔ نیویارک ٹائمز نے ایک نامعلوم امریکی عہدے دار کے حوالے سے کہا، ’یہ سب کہانیاں ہیں۔ گراؤنڈ آپریشن میں شامل لوگوں کو واضح طور پر یہ پتا نہیں تھا کہ کارروائی کس کے خلاف ہے۔ لیکن پاکستانیوں اور امریکیوں دونوں پر ہی یہ واضح ہو گیا کہ ان کے ہاتھ کیا لگا ہے۔‘

رپورٹ میں دیگر امریکی عہدے داروں کے حوالے سے یہ شبہ بھی ظاہر کیا گیا ہے کہ پاکستانیوں نے امن مذاکرات کے کسی بھی سلسلے کو سست بنانے کے لئے سی آئی اے کو نادانستہ طور پر استعمال کیا ہو۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM

ویب لنکس