1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’کئی ملین مہاجرین‘: یورپی باشندے اقلیت بن جائیں گے، اوربان

ہنگری کے وزیر اعظم وکٹور اوربان نے غیر یورپی مہاجرین سے متعلق اپنے ملک کے سخت موقف کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’کئی ملین تارکین وطن‘ کی آمد سے یورپی باشندوں کو آئندہ اپنے ہی براعظم میں اقلیت بن جانے کا خطرہ درپیش ہے۔

default

بوڈاپسٹ کا ریلوے اسٹیشن ایک ہنگامی مہاجر کیمپ کا منظر پیش کرتا ہوا

یورپی یونین کے رکن مشرقی یورپی ملک ہنگری کے دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے سربراہ حکومت نے یہ بات اس پس منظر میں کہی کہ یورپ کو ان دنوں دوسری عالمی جنگ کے بعد سے مہاجرین کے آج تک کے سب سے شدید بحران کا سامنا ہے اور ایسے ہی ہزاروں تارکین وطن ہنگری بھی پہنچ چکے ہیں۔

ہنگری کے دارالحکومت بوڈاپسٹ سے مغرب کی طرف ایک ریلوے اسٹیشن پر بھی اس وقت ہزاروں مہاجرین عارضی طور پر مقیم ہیں جبکہ مغربی یورپی ملکوں کی طرف سفر کے خواہش مند ایسے سینکڑوں تارکین وطن نے گزشتہ رات بھی ہنگری میں ایک ایسی کھچا کھچ بھری ہوئی ٹرین پر گزاری، جسے ابھی تک مقامی پولیس کے اہلکاروں نے اپنے گھیرے میں لے رکھا ہے۔ ان مہاجرین میں اکثریت شامی باشندوں کی ہے۔

نیوز ایجنسی روئٹرز کے مطابق وزیر اعظم وکٹور اوربان نے جمعے کے روز ہنگری کے ایک پبلک ریڈیو پر اپنے انٹرویو میں کہا، ’’حقیقت یہ ہے کہ یورپ کو اس وقت مہاجرین اور تارکین وطن کی بہت بڑی لہر کا سامنا ہے۔ اس طرح بیسیوں ملین لوگ یورپ آ سکتے ہیں۔‘‘

وکٹور اوربان نے مزید کہا، ’’پھر ہو گا یہ کہ ہمیں اچانک پتہ چلے گا کہ ہم اپنے ہی براعظم میں اقلیت بن کر رہ گئے ہیں۔‘‘ اوربان نے اس بات کا حوالہ بھی دیا کہ اب تک جو تارکین وطن ہنگری پہنچے ہیں، وہ ’کوئی مہاجر کیمپ نہیں بلکہ آزادی‘ چاہتے ہیں۔

ہنگیریئن سربراہ حکومت کے اس بیان کا پس منظر یہ ہے کہ جو سینکڑوں تارکین وطن اس وقت ہنگری سے رخصت ہو کر مغربی یورپ، خاص کر جرمنی کی طرف سفر کی اجازت دیے جانے کے خواہش مند ہیں، ان میں سے بہت سوں نے اسی ٹرین پر شیونگ فوم کے ساتھ یہ پیغام بھی لکھ دیا تھا: ’’نہ کوئی مہاجر کیمپ اور نہ ہی ہنگری میں قیام۔ فریڈم ٹرین!‘‘

Karte Grenzzaun zwischen Serbien und Ungarn Englisch

ہنگری آئندہ دنوں میں سربیا کے ساتھ اپنی سرحد کو عملاﹰ سربمہر کر دینے کا ارادہ رکھتا ہے

بوڈاپسٹ میں ملکی پارلیمان ممکنہ طور پر آج جمعے کے روز ایسے حکومتی منصوبوں کی توثیق کرنے والی ہے، جن کے تحت ہنگری کی سربیا کے ساتھ جنوبی سرحد کو عملاﹰ سربمہر کر دیا جائے گا تاکہ وہاں سے غیر ملکی تارکین وطن کی بڑی تعداد میں ہنگری اور اس طرح یورپی یونین میں آمد کو روکا جا سکے۔

اس کے علاوہ اوربان حکومت ہنگری کی سربیا کے ساتھ سرحد کے قریب ہی ایسے مہاجرین کے لیے عارضی مراکز بھی قائم کرنا چاہتی ہے، جہان ان تارکین وطن کو رکھا جائے گا، جو اب تک ہنگری میں داخل ہو چکے ہیں۔

وکٹور اوربان کے مطابق بوڈاپسٹ کی پارلیمان مہاجرین کی آمد کو روکنے کے لیے جن اقدامات پر اس وقت بحث کر رہی ہے، ان پر عمل درآمد کا آغاز پندرہ ستمبر سے ہو سکے گا۔ انہوں نے کہا، ’’سربیا، مقدونیہ، تارکین وطن اور انسانوں کی اسمگلنگ کرنے والوں، سب کو اس کے لیے تیار ہو جانا چاہیے۔ ہم بھی اس کی پوری تیاری کریں گے اور پندرہ ستمبر کو ایک مختلف دور کا آغاز ہو گا۔‘‘

DW.COM