1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

کئی ملکوں کی اقتصادی قیادت نازک موڑ پر ہے: ورلڈ بینک

عالمی بینک کے صدر رابرٹ زؤلک نے انتباہی بیان دیتے ہوئے واضح کیا کہ کئی ملکوں میں سرمایہ کاروں کا اقتصادی قیادت پر اعتماد اٹھ گیا ہے اور یہ ایک نئی معاشی پریشانی کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔

default

رابرٹ زؤلک : فائل فوٹو

ورلڈ بینک کے سربراہ رابرٹ زؤلک نے گزشتہ دنوں کے دوران عالمی منڈیوں میں پیدا ہونے والی شدید مندی کے تناظر میں کہا ہے کہ اس وقت مالی منڈیاں ایک نئے خطرناک زون میں داخل ہو چکی ہیں اور یہ بات آنے والے وقت میں عالمی معیشت اور سرمایہ کاروں کے لیے مزید پریشانی کا باعث بن سکتی ہے۔ عالمی بینک کے صدر کا صاف اشارہ پچھلے دنوں میں امریکہ اور یورپ میں اقتصادی صورت حال کے تناظر میں اسٹاک مارکیٹوں میں پیدا ہونے والی مندی کی طرف تھا۔ زؤلک کے مطابق اس وقت بھی سرمایہ کاروں کا اعتماد کمزور ہے کیونکہ کئی یورپی ملک حکومتی قرضوں کے بوجھ اور بڑھتی ہوئی شرح بے روزگاری کا سامنا کر رہے ہیں۔

Dominique Strauss-Kahn Robert Zoellick Jean Claude Trichet G-20-Gipfel Paris Frankreich Februar 2011

رابرٹ زؤلک اور یورپی مرکزی بینک کے صدر ترشے ایک میٹنگ کے دوران

زؤلک نے مالی منڈیوں کی شدید مندی کو چند دوسری اقتصادی پیچیدگیوں کے ساتھ نتھی کرتے ہوئے نئے خطرے کا احساس کے ساتھ اقوام کو متنبہ کیا کہ وہ اپنی معاشی پالیسیوں میں موجودہ وقت کی نزاکت کو محسوس کرتے ہوئے عملی اقدامات کو متعارف کروائیں۔ ورلڈ بینک کے سربراہ نے عالمی مالی منڈیوں میں پیدا ہونے والی شدید مندی میں امریکی کردار کو بھی اہم خیال کیا اور کہا کہ کانگریس میں ملکی قرضوں کی حد بڑھانے کے حوالے سے اراکین کے درمیان جاری بحث مباحثے نے بھی سرمایہ کاروں کے اعتماد میں عدم استحکام پیدا کیا تھا۔

زؤلک کے مطابق عالمی منڈیوں کے علاوہ عالمی اقتصادی نظام بھی امریکی اقتصادی صورت حال کی روشنی میں اپنے کاروباری اور تجارتی رجحان کو متعین کرتا ہے۔ انہوں نے امریکی حکومت سے سوال بھی کیے کہ کیا اسے معلوم ہے کہ اس کی اقتصادی سمت درست اور جس رخ پر روانہ ہیں وہ صحیح ہے۔ عالمی معاشی منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے ورلڈ بینک کے چیف کا کہنا تھا کہ ان کے نزدیک مالی منڈیوں میں استحکام سے مراد کاروباری اور عام خریدار کا اعتماد ہے کیونکہ اس سطح پر اعتماد نہیں ہو گا تو مالی منڈیوں میں پیدا ہونے والی تیزی جعلی اور کمزور ہوگی۔

Deutschland Wirtschaft Börse DAX profitiert von Griechenland-Rettung

گزشتہ دنوں کی مندی کے دوران کارباری حلقوں کو اربوں ڈالر کے نقصان کا سامنا رہا

زؤلک کے مطابق کئی یورپی ملکوں میں اقتصادی ڈرامائی صورت حال اس وقت شدید دباؤ کا سامنا کر رہی ہے۔ ان کے مطابق یورو زون کے ملکوں میں یہ صورت حال خاصی پیچیدہ ہے کیونکہ کئی ممالک قرضوں کے حجم کو سنبھالنے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں۔ اقتصادی ماہرین بھی ورلڈ بینک کے صدر کے خیالات کے ساتھ اتفاق کرتے ہوئے اس اندیشے کا اظہار کرتے ہیں کہ کمزور امریکی معاشی پوزیشن اور یورپی قرضوں کے بحران سے عالمی معیشت ایک بارپھرکسادبازاری کی لپیٹ میں آ سکتی ہے۔

زؤلک کے خیال میں مستقبل میں چینی کرنسی یوان دنیا میں ریزرو کرنسی کی پوزیشن سنبھال سکتی ہے جب کہ ڈالر بدستور عالمی اقتصادیات کی ترجیحی کرنسی رہے گی۔

عالمی بینک کے صدر رابرٹ زؤلک نے عالمی اقتصادیات کے حوالے سے اپنے خیالات کا اظہار آسٹریلیا کے شہر سڈنی میں منعقد ایشیا سوسائٹی کے سالانہ ڈنر کے موقع پر کیا۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس