1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

کئی جرمنوں اور فرانسیسیوں کے لئے مسلمان ایک خطرہ

ایک فرانسیسی اخبار کی تازہ رپورٹ کے مطابق فرانسیسی اور جرمن شہریوں کی ایک بڑی تعداد اپنے اپنے ملک میں بسنے والے مسلمانوں کو ’خطرہ‘ سمجھتی ہے۔

default

لی موند، Le Monde نامی اخبار نے دونوں ممالک میں منعقدہ عوامی جائزوں کے بعد یہ رپورٹ مرتب کی ہے۔ تفصیلات کے مطابق جائزے میں شامل بیالیس فیصد فرانسیسی شہریوں نے اپنے ملک میں بسنے والی مسلم برادری کو اپنے قومی شناخت کے لئے خطرہ گردانا ہے۔ اسی طرح سروے کا حصہ بننے والے چالیس فیصد جرمنوں کی رائے بھی ایسی ہی تھی۔

لی موند کے ساتھ اس عوامی جائزے میں تعاون کرنے والی کمپنی IFOP کے ایک عہدیدار

Jerome Fourquetکا کہنا ہے کہ تارکین وطن کے انضمام کی راہ میں حائل سلامتی اور روزگار سے جڑے سوالات سے بڑھ کر مذہب سے ان کا تعلق جاننے کی کوشش کی گئی۔

verkäuferin des ersten französischen Burger King Muslim in Paris, Frankreich

فرانس میں ایک مسلم خاتون اپنی ریستوران میں کام کے دوران

یہ سروے گزشتہ سال کے آخری مہینے میں کیا گیا تھا۔ سروے میں شامل 75 فیصد جرمن باشندوں کا خیال تھا کہ مسلمان ان کے معاشرے میں بہتر طور گھلے ملے ہوئے نہیں ہیں۔ یہی خیال 68 فیصد فرانسیسی شہریوں کا تھا۔

ان دو مغربی یورپی ممالک کے عوام کے خیال میں مسلمان اپنی خواہش کے مطابق اُن کے معاشرے میں مکمل طور پر ضم نہیں ہورہے۔ جرمن اور فرانسیسی شہریوں میں سے بالترتیب 15 اور 18 فیصد کی رائے میں میزبان ممالک میں لسانیت اور قبولیت سے انکار بھی مسلمانوں کے بہتر انضمام کی راہ میں رکاٹ ہے۔

یورپ میں سب سے زیادہ مسلمان فرانس میں آباد ہیں، جن کی تعداد کا تقریباً ساٹھ لاکھ بنتی ہے۔ ان میں سے بیشتر شمالی افریقی ممالک اور ترکی سے آنے والوں کی ہے۔ فرانس ہی نے حال میں مکمل چہرے کے نقاب پر پابندی کا قانون بنایا ہے۔

Minarette und Moscheen in Deutschland und Europa, Tag der offenen Moschee Berlin Flash-Galerie

جرمن دارالحکومت برلن کی ایک مسجد میں ایک مسلمان خاتون مہمان جرمن شہریوں کو اسلام سے متعلق آگہی فراہم کرتے ہوئے

جرمنی نے جنگ عظیم کے بعد ملک کے اندر تعمیر نوکے لئے بہت بڑی تعداد میں مسلمان تارکین وطن کو آنے دیا تھا۔ یہاں بسنے والے مسلمانوں کی تعداد پینتالیس لاکھ کے لگ بھگ ہے، جن میں اکثریت ترک النسل ہیں۔

جرمنی میں مسلمانوں کے انضمام پرچونکہ زیادہ توجہ ہے اسی لئے بعض حلقے یہ خدشہ بھی ظاہر کرتے ہیں کہ کسی ناخوشگوار دہشت گردانہ حملے کی صورت میں عوامی ردعمل زیادہ نفرت آمیز اور شدید ہوسکتا ہے۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس