1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

ژاک کالیس کی انتالیس سینچریاں

بھارت کے خلاف تیسرے ٹیسٹ میچ میں جنوبی افریقہ کے مشہور آل راؤنڈر اورمستند بلے باز ژاک کالیس نے اپنی انتالیسویں سینچری مکمل کرنے کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔ آسٹریلیا کے رکی پونٹنگ کی بھی اتنی ہی سنچریاں ہیں۔

default

ژاک کالیس: فائل فوٹو

بھارت کے لٹل ماسٹر سچن ٹنڈولکرکی پچاس سینچریوں کے بعد سب سے زیادہ ٹیسٹ سینچریوں کا اعزاز آسٹریلیا کے ممتاز بلے باز رکی پونٹنگ کے پاس تھا۔ وہ گزشتہ کئی ٹیسٹ میچوں میں کوئی سینچری نہیں بنا سکے ہیں اور اس دوران بھارتی بلے باز ٹنڈولکر مسلسل سینچری پر سینچری بناتے چلے جا رہے ہیں۔ چند ماہ پہلے تک دونوں کے درمیان فرق دو تین سینچریوں کا تھا جو اب گیارہ ہو چکا ہے۔

جنوبی افریقہ کے ژاک کالییس بھی ان سے بہت پیچھے تھے لیکن وہ بھی بھرپور فارم کا مظاہرہ کررہے ہیں۔ انہوں نے پونٹنگ کی انتالیس سینچریوں کے اعزاز کو برابر کردیا ہے۔ اس طرح اب پونٹنگ اگلے کسی میچ کے بعد تیسرے مقام پر پہنچ سکتے ہیں۔

بھارت کے خلاف پیر کے روز ژاک کالیس نے انتالیسویں سینچری مکمل کی۔ انہوں نے تیسرے ٹیسٹ میچ کی پہلی اننگز میں 161 رنز بنائے ہیں۔ اس اننگز کے دوران جنوبی افریقی آل راؤنڈر زخمی بھی تھے اور دوا کے اثر میں کھیلتے رہے۔ اس کوشش کی وجہ سے اب وہ اگلے دو ہفتہ

Sachin Tendulkar

بھارت کے ٹنڈولکر کی پچاس سینچریاں ہیں

کرکٹ کھیلنے کے قابل نہیں رہے۔ کالیس اب تک ٹیسٹ کرکٹ میں گیارہ ہزار 838 رنز بنا چکے ہیں۔ ان کی اوسط فی اننگ چھپن فی صد سے زائد ہے اور یہ تمام اعتبار سے انتہائی شاندار ہے۔ وہ اب پونٹنگ کے بارہ ہزار 363 رنز سے صرف 525 پیچھے ہیں۔ وہ اتنے بڑے اسکور کے علاوہ ٹیسٹ کرکٹ میں 270 وکٹیں بھی حاصل کر چکے ہیں۔

ٹیسٹ کرکٹ میں سب سے زیادہ سینچریوں کا اعزاز بھارت کے ممتاز بلے باز سچن ٹنڈولکر کے پاس ہے۔ ان کے بعد انتالیس، انتالیس سینچریاں رکی پونٹنگ اور ژاک کالیس نے بنائی ہیں۔ تیسرے مقام پر بھارت کے ایک اور مایہ ناز بلے باز سنیل گواسکر ہیں، انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ میں 34 سینچریاں اسکور کی تھیں۔ چوتھی پوزیشن پر آسٹریلوی بیٹسمین سٹیو وا 32 سینچریوں کے ساتھ ہیں۔

کرکٹ مبصرین کا خیال ہے کہ ژاک کالیس مزید ایک دو سال ہی کرکٹ کھیل سکیں گے اور بظاہر ٹنڈولکر کی پچاس سینچریوں تک کسی بھی کھلاڑی کا پہنچنا انتہائی مشکل دکھائی دیتا ہے۔ یہ ریکارڈ اگلے کئی برسوں تک ٹوٹتا دکھائی نہیں دیتا۔ کئی اور بھی کھلاڑی ہیں جو مسلسل سینچریاں بنانے میں کامیاب ہو رہے ہیں لیکن بیشتر کھلاڑی ابھی تیس سینچریوں سے کم کے مقام پر ہیں۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM

ویب لنکس