1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ژاک شیراک کی غیر موجودگی میں ہی مقدمہ چلانے کا فیصلہ

ایک فرانسیسی عدالت نے فیصلہ دیا ہے کہ سابق فرانسیسی صدر ژاک شیراک کے خلاف غبن کا مقدمہ ان کی غیر موجودگی میں ہی چلایا جائے۔ یہ فیصلہ 78 سالہ شیراک کی ذہنی حالت سے متعلق ایک طبی رپورٹ کے تناظر میں دیا گیا ہے۔

ژاک شیراک

ژاک شیراک

اس طبی رپورٹ کے مطابق بیماری کے باعث ژاک شیراک کی یاداشت متاثر ہوئی ہے۔ دوسری عالمی جنگ کے بعد شیراک فرانس کے پہلے ریاستی سربراہ ہیں جنہیں عدالتی کارروائی کا سامنا ہے۔

عدالت کے جج ڈومینیک پاؤتھ Dominique Pauthe کے سامنے جب یہ سوال اٹھایا گیا کہ طبی وجوہات پر شیراک کے عدالت میں حاضری سے قاصر ہونے کے باعث یہ مقدمہ ملتوی کر دیا جائے تو ان کا کہنا تھا: ’’ذاتی طور پر موجود ہونا ضروری نہیں ہے۔‘‘

طبی رپورٹ کے مطابق شیراک یاداشت متاثر ہونے کے باعث فیصلے پر اثر انداز ہونے والے اہم سوالات کے جواب دینے کے قابل نہیں ہیں

طبی رپورٹ کے مطابق شیراک یاداشت متاثر ہونے کے باعث فیصلے پر اثر انداز ہونے والے اہم سوالات کے جواب دینے کے قابل نہیں ہیں

جج کے مطابق یہ فیصلہ شیراک کے رشتہ داروں کی طرف سے ایک طبی رپورٹ کے ساتھ یہ درخواست کرنے پر کیا گیا ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شیراک شدید طبی مسائل سے دو چار ہیں اور یاداشت متاثر ہونے کے باعث وہ فیصلے پر اثر انداز ہونے والے اہم سوالات کے جواب دینے کے قابل نہیں ہیں۔

سابق فرانسیسی صدر ژاک شیراک پر بدعنوانی کے سنگین الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں، تاہم انہیں کبھی اس سلسلے میں عدالتی کارروائی کا سامنا  نہیں کرنا پڑا۔ دائیں بازو سے تعلق رکھنے والے شیراک پر 1995ء کی اپنی کامیاب صدارتی مہم کے لیے غیر قانونی طور پر فنڈ حاصل کرنے کے بھی الزامات ہیں۔ اس کے علاوہ ان پر پیرس کے میئر کی حیثیت سے وسائل کے ناجائز استعمال اور اعتماد کو ٹھیس پہنچانے جیسے الزامات بھی عائد ہیں۔ اگر ان کے خلاف یہ الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو انہیں دس سال کی سزائے قید اور ڈیڑھ لاکھ یورو تک جرمانے کی سزائیں ہو سکتی ہیں۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس