1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ڈی ایچ اے فراڈ کیس، سابق آرمی چیف کے بھائی کے خلاف تحقیقات

لاہور کی ایک احتساب عدالت نے پاکستان کے ایک ہائی پروفائل مقدمے کے مرکزی ملزم حماد ارشد کو دو روزہ ریمانڈ پر نیب کے حوالے کر دیا ہے۔ اس مقدمے میں سابق آرمی چیف اشفاق کیانی کے بھائی کامران کیانی کا بھی نام لیا جا رہا ہے۔

Schatten Mann Sillhouette Symbolbild

اخباری اطلاعات کے مطابق کامران کیانی اس وقت دبئی میں ہیں اور انہیں پاکستان لا کر شامل تفتیش کیے جانے کا امکان ہے

پاکستان کی مسلح افواج کے سابق سربراہ جنرل (ر) اشفاق پرویز کیانی نومبر 2013ء میں اپنے عہدے سے ریٹائر ہو گئے تھے۔ اب اس مقدمے میں مبینہ طور پر ملوث اپنے بھائی کامران کیانی کی وجہ سے ایک بار پھر میڈیا میں اُن کا تذکرہ سننے میں آ رہا ہے۔ پاکستان میں آج کل ہر طرف زیر بحث اس مقدمے کو ’ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی کرپشن کیس‘ کہا جا رہا ہے۔ اس احتسابی کاروائی کو شروع کرنے کے لیے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی نے قومی احتساب بیورو سےدرخواست کی تھی۔

عسکری امور پر گہری نظر رکھنے والے ایک ماہر بریگیڈیئر (ر) غضنفر علی نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ 16 ارب روپے مالیت کے ڈی ایچ اے کرپشن کیس میں گرفتار ہونے والے شخص حماد ارشد کی کمپنی گلوبیکو دراصل پہلے جنرل کیانی کے بھائی کامران کیانی کی ملکیت تھی۔ اس کمپنی نے 2009ء میں لاہور میں ڈی ایچ اے کے ساتھ ایک معاہدہ کیا، جس کی رُو سے اسے 25000 کنال اراضی ڈی ایچ اے کو فراہم کرنا تھی۔

بریگیڈیئر (ر) غضنفر علی کے مطابق اس کمپنی نے ڈی ایچ اے سے فائلیں لے کر مارکیٹ میں بیچ دیں، اس طرح جمع ہونے والا اربوں روپے کا سرمایہ مبینہ طور پر دوسرے کاروباروں میں لگا لیا لیکن یہ کمپنی ڈی ایچ اے کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے مطابق غیر متنازعہ، پوری اور ایک ساتھ زمین فراہم کرنے میں کامیاب نہ ہو سکی۔ اس طرح لاہور ڈی ایچ اے سٹی کے اس منصوبے کے تحت پاک فوج کے شہداء، زخمیوں اور دیگر لوگوں کو پلاٹ نہ دیے جا سکے۔

ہفتے کے روز لاہور سے شائع ہونے والے اخبارات میں ڈی ایچ اے کی طرف سے ایک تفصیلی اشتہار شائع ہوا ہے، جس میں گلوبیکو کمپنی کی طرف سے زمین کی فراہمی میں ناکامی کے باعث نیب سے رجوع کرنے کی اطلاع دی گئی ہے۔

بریگیڈیئر (ر) غضنفر علی کے مطابق جنرل کیانی کا اس سکینڈل سے کوئی براہ راست واسطہ نہیں تھا البتہ ان کے بھائیوں کی ساکھ بہتر نہیں تھی:’’وہ جنرل کیانی کے دور سے ہی ایسے پراجیکٹس لیتے رہے ہیں۔ ان کے نام ای او بی آئی سمیت کئی دوسرے منصوبوں کے حوالے سے بھی سامنے آتے رہے ہیں۔‘‘

Pakistan Moschee Lahore Stadt Übersicht Panorama

جنرل کیانی کے بھائی کامران کیانی کی کمپنی نے 2009ء میں لاہور میں ڈی ایچ اے کے ساتھ ایک معاہدہ کیا، جس کی رُو سے اسے 25000 کنال اراضی ڈی ایچ اے کو فراہم کرنا تھی

انہوں نے بتایا کہ اب قومی احتساب بیورو کو شفاف طریقے سے اس سکینڈل کی تفتیش کر کے مجرموں کو انصاف کے کٹہرے میں لانا ہو گا وگرنہ عوام میں یہ پیغام جائے گا کہ پاکستان میں سویلین لوگوں کے خلاف تو کارروائی ہوتی ہے لیکن عسکری شخصیات کے رشتے داروں کے حوالے سے انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے جاتے۔

ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ سابق آرمی چیف کے بھائی کے خلاف تحقیقات کا آغاز ہو جانا ہی یہ ظاہر کر رہا ہے کہ پاکستانی فوج اس ضمن میں مکمل طور پر غیر جانبدار ہے۔

ملٹری امور پر دسترس رکھنے والے ایک اور ماہر سیاسیات ڈاکٹر حسن عسکری نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ جنرل کیانی کے پراپرٹی کے بزنس سے وابستہ بھائیوں کا نام ان کے دور میں ہی سامنے آنا شروع ہو گیا تھا:’’میری اطلاع کے مطابق اس کیس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کی اجازت خود موجودہ آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے دی ہے۔‘‘

ڈاکٹر عسکری کے بقول پاکستان آرمی کو اپنی ساکھ بہت عزیز ہے اور لگتا ہے کہ یہ کارروائی اس کی رضامندی سے ہو رہی ہے:’’پاکستان آرمی نہ چاہتی تو نیب کی کیا مجال تھی کہ وہ یہ تحقیقات کر سکتی۔‘‘

Wochenrückblick Welt KW 48 Iran Flash-Galerie

عام تاثر ہے کہ پاکستان میں سویلین لوگوں کے خلاف تو کارروائی ہوتی ہے لیکن عسکری شخصیات کے رشتے داروں کے حوالے سے انصاف کے تقاضے پورے نہیں کیے جاتے

ڈاکٹر عسکری کے بقول اب دیکھنا یہ ہے کہ پاکستان کی سیاسی جماعتیں (جنہیں کرپشن کے الزامات کے تحت قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی کا سامنا رہتا رہا ہے) ان تحقیقات پر کس قسم کا رد عمل ظاہر کرتی ہیں۔ اخباری اطلاعات کے مطابق کامران کیانی اس وقت دبئی میں ہیں اور انہیں پاکستان لا کر شامل تفتیش کیے جانے کا امکان ہے۔

ادھر کامران کیانی کے ایک اور بھائی امجد کیانی نے ذرائع ابلاغ کو بتایا ہے کہ بعض حلقے محض بغض اور عناد کی وجہ سے ان کے خاندان کو بدنام کر رہے ہیں۔ انہوں نے کامران کیانی پر لگائے جانے والے الزامات کی تردید کی ہے۔

ادھر پنجاب میں نیب کے ڈائریکٹر جنرل نے کہا ہے کہ ملزم سویلین ہو یا سابق فوجی، تحقیقات قانون کے مطابق ہوں گی۔