1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

ڈی این اے کے ذریعے آنتوں کے کینسر کی تشخیص

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ڈی این اے کے ذریعے آنتوں کے سرطان کی ابتدائی مرحلے میں تشخیص کے حوالے سے پیش رفت ہوئی ہے۔ اس طرح ڈی این اے ٹیسٹ کے ذریعے آنتوں کے کینسر کی ابتدائی علامات کو جانچا جا سکے گا۔

default

Symbolbild Stammzellenforschung Mensch DNA

جسم میں ڈی این اےکا ایک علامتی اظہار

اس تحقیق میں آنتوں میں ٹیومرز اور گٹھلیوں سے متعلق دو مختلف جینز پر کیے گئے تجربات میں حیرت انگیز طور پر نہایت ٹھیک ٹھیک معلومات حاصل ہوئی ہیں۔ یہ ٹیومرز بعد میں کینسر میں تبدیل ہو سکتے تھے۔

سائنسدانوں کے مطابق آنتوں میں پیدا ہونے والی تمام گٹھلیوں کا کینسر بننا ضروری نہیں، تاہم آنتوں میں کینسر کی تمام اقسام کا آغاز انہیں گٹھلیوں کے ساتھ جڑا ہے۔

یہ تحقیقی رپورٹ کیمبرج یونیورسٹی کے ریسرچ انسٹی ٹیوٹ نے مرتب کی ہے اور اسے برٹش میڈیکل جرنل میں شائع کیا گیا ہے۔ تحقیق میں آنتوں میں گٹھلیوں اور کینسر کے شکار 261 مریضوں کا مطالعہ کیا گیا ہے۔

DNA Analyse im Labor

اس تحقیق سے مستقبل میں آنتوں کے سرطان کی ابتدائی مرحلے ہی میں تشخیص میں مدد ملے گی

ماہرین کے مطابق انسانی ڈی این اے میں میتھائلیشن کا عمل انتہائی اہم ہے۔ محققین کا کہنا ہے کہ یہی عمل آنتوں میں موجود صحت مند خلیوں کے ذریعے ایسے خلیات کے خلاف ’سرخ بتی‘ روشن کردیتا ہے، جو آنتوں میں غیر ضروری طور پر پروٹین پیدا کرتے ہیں۔ ماہرین کے مطابق کسی خلیے کے ارتقاء میں بھی میتھائلیشن کا عمل انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ تاہم محققین کا کہنا ہے کہ میتھائلیشن کا یہی عمل اس وقت کینسر کے پھیلاؤ کی وجہ بھی بن جاتا ہے، جب یہ عمل کسی خاص صورتحال میں صحت مند جینز کو بلاک کر دے۔

اس تحقیقاتی ٹیم کی قیادت کرنے والے ڈاکٹر اشرف ابراہیم کے مطابق مستقبل میں ڈی این اے میں مالیکیولی تبدیلیوں کی مدد سے آنتوں کے کینسر کی تشخیص کو نہایت سادہ بنایا جا سکے گا۔

’مالیکیولی علامات، جو جینز کو یہ بتاتی ہیں کہ یہاں پروٹین پیدا کیا جائے یا نہیں، کینسر کی تشخیص میں اہم ہو سکتی ہیں۔ ہم نے آنتوں کے متعدد حصوں میں ایسی علامات کے نتیجے میں سرطان کے پھیلاؤ کا مطالعہ کیا ہے۔‘

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس