1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

ڈی این اےٹیسٹ نے بچایا بھی تو 27 سال بعد

27 برس کی طویل سزا کاٹنے کے بعد مائیکلانتھونی گرین نے آزاد شخص کی حیثیت سے امریکی ریاست ٹیکساس میں واقع ہیوسٹن ہائی اسکول کے آڈیٹوریم میں اپنی کہانی بیان کی۔

default

گرین کے سامنے اسکول کے اس آڈیٹوریم کی قطاروں میں بیٹھے نوجوان ان کی اسی عمر کے تھے جس عمر میں انہیں ایک خاتون کی آبروریزی کے الزام میں ایک عینی شاہد کی غلط گواہی کی بِنا پر مجرم قرار دیا گیا تھا۔

46 سالہ گرین گزشتہ برس 30 جولائی کو اس وقت رہا کر دیے گئے تھے، جب متاثرہ خاتون کی جینز سے لیے گئے ڈی این اے کی مدد سے اس بات کی تصدیق ہو گئی کہ آبرو ریزی کے واقعے میں گرین نے حصہ نہیں لیا تھا۔

Innocence Project ایک سماجی تنظیم ہے جس کے تحت جیل میں قید ایسے افراد کی رہائی کی کوششیں کی جاتی ہیں، جو ڈی این اے ٹیسٹ سے حاصل شواہد سے یہ ثابت کر سکتے ہیں کہ وہ بے قصور ہیں۔ گرین کی رہائی اسی تنظیم کی مرہون منت ہے۔ اس تنظیم کے مطابق امریکہ میں 1989ء سے اب تک ایسے 265 افراد کو اہم ترین شواہد سے لیے گئے ڈی این اے ٹیسٹ کے بعد بے قصور ثابت ہونے پر رہا کروایا جا چکا ہے۔

Wiedereröffnung Gefängnis Abu Ghraib Irak

امریکہ میں چند سماجی تنظیمیں بے قصور افرد کو رہائی دلوانے کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کا سہارا لے رہی ہیں

قید کے دوران گرین نے وکالت کی تعلیم حاصل کی اور اب رہائی کے بعد وہ پبلک ڈیفینڈر آفس میں نوکری کر رہے ہیں۔ میشیاکارٹر ویسٹ بری ہائی اسکول کے آرٹس تھیئٹر میں بطور ڈائریکٹر اپنے فرائض سر انجام دیتی ہیں۔ ان کی دعوت پرگرین اس اسکول کے طالبعلوں سےملاقات کر رہے تھے۔ میشا کے مطابق گرین سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔

میشا نے گزشتہ ماہ طالبعلوں کی جانب سے پیش کیے گئے ایک ایسے ڈرامے کے بعد طالبعلوں سے بات کرنے کے لیے گرین کو دعوت دی تھی، جس کا موضوع جیل سے رہا ہونے والے قیدیوں پر تھا۔ ان کے مطابق گرین کو دعوت دینے کا مقصد یہ ہےکہ گرین جیسے کسی شخص کو بلا کر ان بچوں کو بتایا جائے کہ یہ سب حقیقت ہے۔

واضح رہے کہ گرین کو 18 برس کی عمر میں چھینی گئی گاڑی میں ایک عورت کی آبرو ریزی کے الزام میں پولیس نے گرفتار کر لیا تھا۔ پولیس کو اس جرم میں شریک چار افراد کی تلاش تھی اور گرین اس گاڑی کے قریب سے گزر رہے تھے۔ گرین کو گرفتار کرنے کے بعد جب پولیس نے متاثرہ خاتون سے پوچھا تھا کہ کیا گرین ان چار افراد میں سے ایک تھےتو اس خاتون نے اس کا جواب نفی میں دیا تھا تاہم ایک ہفتے بعد گرین کو گاڑی چھینے کے الزام میں گرفتار کر لیا گیا۔گرفتاری کے بعد متاثرہ خاتون نے گرین کو ان چار افراد میں سے ایک کے طور پر شناخت کیا تھا ۔

رپورٹ: عنبرین فاطمہ

ادارت:عاطف بلوچ

DW.COM