1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ڈیڑھ درجن یرغمالیوں کی رہائی کے لیے فوجی آپریشن

افغان فوج نے آج بدھ کے روز اٹھارہ اغوا کیے گئے افراد کی بازیابی کے لیے آپریشن شروع کر دیا ہے۔ اِن افراد کو طالبان عسکریت پسندوں نے فریاب صوبے میں ہنگامی لینڈنگ کرنے والے ہیلی کاپٹر میں سے اپنے قبضے میں لیا ہے۔

default

ہنگامی لینڈنگ کرنے والا ہیلی کاپٹر ایم آئی سیون ٹین

افغان وزارت دفاع کے مطابق ہیلی کاپٹر کی ایمرجنسی لینڈنگ کے بعد اغوا کیے گئے افراد کی بازیابی کا آپریشن شروع کر دیا گیا ہے۔ بیان کے مطابق ملکی فوج، طالبان کے ہاتھوں یرغمالی بنائے گئے 18 افراد کے حصول کے لیے اِس آپریشن شریک ہے۔ افغان سکیورٹی ذرائع کے مطابق طالبان شدت پسندوں نے ان افراد کو اس وقت یرغمال بنایا گیا، جب تکنیکی خرابی کی وجہ سے ایک ہیلی کاپٹر کو ہنگامی لینڈنگ کرنا پڑی تھی۔ یہ ہیلی کاپٹر ایک غیر ملکی کمپنی سے منسلک ہے۔

اندازے لگائے گئے ہیں کہ طالبان نے ہیلی کاپٹر کی ہنگامی لینڈنگ کو دیکھتے ہوئے اپنی کارروائی کو مکمل کیا۔ پہلے انہوں نے تمام افراد اور ہیلی کاپٹر کو گھیرے میں لے لیا۔ اُس کے بعد تمام مسافروں کو اپنے قبضے میں کرنے کے دوران تین افراد کو ہلاک کر دیا۔ ان میں دو افغان شہری اور ایک غیر ملکی تھا۔ غیر ملکی کے بارے میں اندازہ لگایا گیا ہے کہ وہ ہیلی کاپٹر کے عملے کا رکن ہو سکتا ہے۔ اس موقع پر کارروائی کرتے ہوئے اس ہیلی کاپٹر میں سوار تمام افراد کو یرغمال بنا لیا۔ یرغمال بنانے کے دوران دو فوجی اور ہیلی کاپٹر کے عملے کے رکن کو ابتدائی فائرنگ کے تبادلے میں ہلاک کر دیا۔

Afghanistan Gegenoffensive nach Einnahme Kundus durch Taliban

افغان فوج نے فریاب صوبے میں فوجی آپریشن شروع کیا ہے

افغان سکیورٹی حکام کے مطابق ہیلی کاپٹر کے صوبے فریاب کے ضلع پشتون کوٹ کے مقام میمانا میں لینڈنگ کی تھی۔ یہ علاقہ عسکریت پسندوں کے کنٹرول میں شمار کیا جاتا ہے۔ ہیلی کاپٹر پر کُل اکیس افراد سوار تھے اور اُس کے دو پائلٹ اور ایک انجینیئر مالدویا سے تعلق رکھتے ہیں۔ مالدویا کے عبوری وزیراعظم گیورگے بریگا نے دارالحکومت کیسیناؤ میں ذرائع ابلاغ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جس ہیلی کاپٹر نے افغانستان میں ہنگامی لینڈگ کی تھی، اُس کے عملے کے تینوں ارکان اُن کے ملک کے شہری ہیں۔ ہیلی کاپٹر ایم آئی سیون ٹین (Mi-17) ہے اور افغان فوج نے کرائے پر لے رکھا تھا۔

افغان وزارتِ دفاع کے مطابق ہلاک ہونے والے دونوں افغانی فوج کے اہلکار تھے۔ دوسری جانب طالبان نے دعویٰ کیا ہے کہ ہیلی کاپٹر کی ہنگامی لینڈنگ اُن کی کارروائی کا نتیجہ ہے۔ طالبان کے بیان میں بتایا گیا کہ تمام مغویوں کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا ہے اور اُن سے پوچھ گچھ کی جا رہی ہے۔ افغانستان میں تیرہ ہزار فوجی رکھنے والے مغربی دفاعی اتحاد نیٹو نے اِس ہیلی کاپٹر اور یرغمالیوں کے بارے میں کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔