1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

ڈیٹنگ کا بندوبست کرکے شادی کی شرح بڑھاؤ

سنگاپور حکومت کی طرف سے لڑکے لڑکیوں کو ملنے کے مواقع فراہم کرنے کی نت نئی پیش قدمیاں متعارف کرائی جا رہی ہیں۔

default

سنگاپور اپنے قدرتی حسن اور جدید ترقی کی وجہ سے سیاحوں کے لئے کشش رکھتا ہے

غیر معمولی رومانوی کشش رکھنے والے ملک سنگاپور کے نوجوان نہایت شرمیلے اور غیر رومانوی ہیں اور اسی لیے وہاں شادی اور پیدائش کی شرح بھی کم ہے۔ سنگاپور کی حکومت اس مسئلے کے حل کے لیے اکثر نوجوان لڑکے لڑکیوں کو ایک دوسرے سے ملوانے کے لیے نت نئی مہمات متعارف کراتی رہتی ہے۔

سنگا پور کی معاشرتی ترقی ، کھیل اور نوجوانوں کے امور کی وزارت نے اس مد میں اسی ماہ ایک اور ٹینڈر جاری کیا ہے جس میں نوجوان لڑکے لڑکیوں کو ایک دوسرے سے سماجی رابطے بڑھانے اور خاندانوں کی بنیاد رکھنے پر زور دینے کے لیے نئی مہم کے بارے میں اشتہاری ایجنسیوں کے خیالات مانگے گئے ہیں۔

12.07.2010 global 3000 singapur 2

سنگاپوری نوجوان شرمیلے ہوتے ہیں

اس ٹینڈر کو جیتنے والی اشتہاری ایجنسی 20 سے 35 سال کےمردوں اور عورتوں کو ایک دوسرے سے ملنے ، پسند کرنے اور شادی کے لیے ایک اشتہاری مہم تیار کرے گی۔ اس قسم کے حکومتی اقدامات 5 ملین کے آبادی والے سنگاپور میں شادیوں اور پیدائش کی شرح میں کمی کے بعد شروع کیے گئے ہیں۔

وزیراعظم لی سیئن لونگ Lee Hsien Loong کے مطابق سنگاپور میں شرح پیدائش نچلی ترین سطح پر پہنچ چکی ہے ۔ 2008ء میں شرح ِ پیدائش 1.28 بچہ فی خاتون تھی مگر2009 ء میں یہ شرح گر کر 1.23 بچہ فی خاتون ہوگئی جو کہ کسی بھی ملک میں مستحکم آبادی کی سطح سے بہت نیچے ہے۔1999ء میں سنگاپور میں ایک ہزار میں سے ہر 8 واں شہری شادی کے بندھن میں بندھتا تھا مگر 2009 ء میں شہری حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق یہ شرح گر کر 6.6 فی ہزار شہری ہوگئی ۔

WZ Singapur.jpg

سنگاپور میں بچوں کی پیدائش کی کم شرح حکومت کے لئے تشویش کا باعث

اس تازہ حکومتی مہم کے بارے میں سنگاپور کے شہریوں کے ملے جلے تاثرات ہیں۔ ایک پچیس سالہ نوجوان کو ’ہون کیات‘ کے مطابق یہ مہم کسی حد تک احمقانہ ہے ۔ جب اس سے مزید پوچھا گیا کہ کیا یہ مہم اس کو کسی لڑکی سے ملنے یا شادی کرنے پر آمادہ کرے گی تو اس کا جواب منفی تھا۔

سنگاپور کے لڑکے لڑکیوں کو ایک دوسرے سے ملوانے کے لیے حکومت کی طرف سے ماضی میں کئے گئے اقدامات کا شرح ِ پیدائش پر کوئی خاص اثر نہیں پڑا تھا۔

رپورٹ: سمن جعفری

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM

ویب لنکس