1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ڈیٹرائٹ حملہ خفیہ اداروں کی ناکامی ہے، اوباما

امریکی صدر باراک اوباما نے خبردار کیا ہے کہ امریکی خفیہ اداروں کی طرف سے کی جانے والی کوئی بھی غلطی ناقابل قبول ہے اور وہ کسی ایسی غلطی کو برادشت نہیں کریں گے جس کی وجہ سے امریکی شہریوں کی زندگی کو خطرہ ہو۔

default

امریکی صدر باراک اوباما

ڈیٹرائٹ ناکام حملے کے بعد سیکیورٹی سسٹم پر ہوئی اعلی سطحی ملاقات کے بعد اوباما نے ایک نشریاتی خطاب میں کہا کہ امریکہ پُرعزم ہے کہ نہ صرف ایسے منصوبوں کو ناکام بنا دیا جائے گا بلکہ انتہا پسندوں کے تمام حملوں کو ناکام بنا تے ہوئے انہیں ہمیشہ کے لئے شکست دی جائے گی۔

منگل کو وائٹ ہاؤس میں اعلیٰ سیکیورٹی افسران کے ساتھ ملاقات کے دوران اوباما نے امریکہ میں سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لئے اہم امور پر تبادلہ خیال کیا اور ڈیٹرائٹ ناکام حملے کی وجوہات جاننے کی کوشش کی۔

اپنے نشریاتی خطاب میں انہوں نے کہا کہ ڈیٹرائٹ حملے سے معلوم ہوتا ہے کہ سیکیورٹی اداروں کے مابین خفیہ معلومات کا ٹھیک طور پر تبادلہ نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا: ’’جب کرسمس کے

Umar Farouk Abdulmutallab

مشتبہ دہشت گرد عمر فاروق عبدالمطلب

دن ایک مبینہ حملہ آور بارودی مواد کے ساتھ طیارے میں داخل ہونے میں کامیاب ہوا توسیکیورٹی نظام ناکام ہو گیا۔ بطور امریکی صدر میری ذمہ داری ہے کہ میں تحقیق کروں کہ ایسا کیوں ہوا اور اس ناکامی کو دور کروں تاکہ آئندہ ایسا نہ ہو۔‘‘

باراک اوباما نے مزید کہا کہ اگرچہ خفیہ اداروں کو معلومات تھیں لیکن مختلف ادارے ان معلومات کو موثر طور پر ایک دوسرے کو منتقل کرنے میں ناکام رہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ناکامی معلومات کو حاصل کرنے کی نہیں ہے بلکہ معلومات کو آگے پہنچانے اور اسے سمجھنے کے حوالے سے ہوئی ہے۔

باراک اوباما نے کہا کہ کرسمس کے دن پیش آنے والے اس واقعہ کے بعد یہ بات بھی کی جا رہی ہے کہ گوآنتا نامو بے کے جیل خانے کو بند کرنے کے فیصلے کا جائزہ لیا جائے۔

Robert Gibbs Pressesprecher im Weissen Haus in Washington

وائٹ ہاؤس کے ترجمان رابرٹ گبس

اوباما نے کہا کہ ان کا ارادہ یہ ہے کہ گوآنتا نامو بے کے قیدیوں کو اسی صورت میں ان کے ممالک میں واپس بھیجا جائے گا جب انہیں یہ یقین ہو گا کہ وہ امریکی سلامتی کے لئے خطرہ نہیں بنیں گے۔

انہوں نے کہا کہ یمن کے موجودہ حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے ، وہ اس بات پر متفق ہیں کہ گوآنتانامو میں قید یمنی قیدیوں کو فی الحال واپس نہیں بھیجا جائے گا۔ تاہم امریکی صدر نے کہا کہ گوآنتامو بے کی بندش کا فیصلہ اٹل ہے۔

دریں اثناء اوباما انتظامیہ پر بڑھتے ہوئے سیاسی دباؤ کے بعد اب وائٹ ہاؤس کے ترجمان رابرٹ گبس نے کہا ہے کہ دوران تفتیش، عمر فاروق عبدالمطلب نے کچھ اہم معلومات فراہم کی ہیں۔ واضح رہے کہ اپوزیشن ری پبلکین پارٹی، تیئس سالہ عبدالمطلب سے کی جانے والی تفتیش کے طریقے پر سخت تنقید کر رہی ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: ندیم گِل

DW.COM