1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ڈیوڈ ہیڈلی تک بھارتی تحقیقاتی اداروں کی رسائی

بھارتی حکومت نے کہا ہے کہ انہیں ممبئی حملوں کے اہم منصوبہ ساز ڈیوڈ ہیڈلی تک براہ راست رسائی کی اجازت مل گئی ہے۔

default

واشنگٹن میں بھارتی سفارت خانے کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان کے مطابق واشنگٹن حکومت نے نئی دہلی حکومت کی درخواست منظور کر لی ہے اور اب بھارتی تحقیقاتی ادارے ڈیوڈ ہیڈلی سے براہ راست تفتیش کر سکتے ہیں۔

ایک سابق پاکستانی سفارت کار اور ایک امریکی خاتون شہری کے بیٹے ڈیوڈ ہیڈلی کوگزشتہ سال امریکی خفیہ ادارے نے گرفتار کیا تھا۔ شکاگو سے تعلق رکھنے والے ہیڈلی پر الزام ہے کہ اُس نے ممبئی حملوں میں مرکزی منصوبہ ساز کا کردار سر انجام دیا تھا۔

امریکی حکام کے مطابق اقبال جرم کے عوض ہیڈلی کو نہ تو سزائے موت دی جائے گی اور نہ ہی انہیں بھارت کے حوالے کیا جائے گا۔

بھارتی حکام کا یہ مطالبہ تھا کہ انہیں ہیڈلی سے براہ راست تفتیش کی اجازت دی جائے ۔ اسی نکتے کی وجہ سے دونوں ممالک کے تعلقات متاثر ہونے کا بھی خدشہ پیدا ہو گیا تھا تاہم بھارتی سفارت کار گوپال سبرامنیم اورامریکی اٹارنی جنرل ایرک ہولڈر کےمابین منگل کو ہونے والی ملاقات میں تمام تر تنازعات ختم کر دئے گئے۔

اس ملاقات کے بعد واشنگٹن میں قائم بھارتی سفارت خانے کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیاہے:’’ دونوں ممالک اس بات پر متفق ہو گئے ہیں کہ بھارتی تحقیقاتی افسران کی ڈیوڈ ہیڈلی تک براہ راست رسائی کو جلد از جلد ممکن بنانے کے لئے پائیدار اقدامات اٹھائے جائیں گے۔‘‘

اس بیان میں مزید کہا گیا:’’ اطراف کے مابین اس تعاون کا مقصد دونوں ممالک کی سلامتی احترام ہے۔‘‘

بھارت واپسی پر سبرامنیم نے بدھ کو ایک نشریاتی ادارے کو انٹر یو دیتے ہوئے کہا کہ ان کا یہ دورہ نہایت کامیاب رہا۔ انہوں نے کہا:’’اس دورے کے تمام تر مقاصد حاصل کر لئے گئے ہیں۔اب ہم قریبی رابطہ کاری کے ساتھ کام کریں گے۔‘‘

Zeichnung Gericht David Coleman Headley vor Richter Harry Leineweber

ڈیوڈ کولمین ہیڈلی ایک سابق پاکستانی سفارت کار کے بیٹے ہیں

اسی ماہ کے آغاز پر امریکی صدر باراک اوباما نے بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ سے کہا تھا، وہ بھی چاہتے ہیں کہ بھارتی تحقیقاتی افسران کو ڈیوڈ ہیڈلی تک رسائی دے دی جائے۔

ہیڈلی کےعلاوہ تین دیگر افراد پر بھی ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی کے سلسلے میں کیس درج ہے، جن میں شکاگو کے تاجرتحور رانا بھی شامل ہیں۔ پاکستان میں جنم لینے والے تحور رانا نے بھی اپنے اوپر عائد کئے گئے الزامات کو تسلیم کر لیا ہے لیکن استغاثہ نے ان کے ساتھ کسی طرح کا کوئی معاہدہ نہیں کیا ہے۔

امریکہ کے وفاقی تحقیقاتی بیورو کے مطابق ممبئی حملوں سے قبل ڈیوڈ ہیڈلی نے بھارت کا سفر کیا اوراس دوران انہوں نے اہداف کی تصاویر اور ویڈیوز بنائیں۔ ممبئی حملوں کے نتیجے میں چھ امریکی شہریوں سمیت کل 166 افراد مارے گئے۔ ان حملوں کے باعث بھارت اور پاکستان کے باہمی تعلقات متاثر ہوئے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: امجد علی

DW.COM