1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ڈیوڈ کیمرون : برطانیہ کے نئے وزیر اعظم

گورڈن براؤن کے وزارت عظمیٰ کے منصب سے استعفیٰ دینے کے بعد ٹوری پارٹی کے رہنما ڈیوڈ کیمرون برطانیہ کے نئے وزیر اعظم بن گئے۔

default

قبل ازیں لیبر پارٹی اور لبرل ڈیموکریٹس کے درمیان بات چیت بغیر کسی پیش رفت کے ختم ہونے کے بعد کنزرویٹو پارٹی اور ترقی پسندوں کے درمیان حکومت سازی کے معاہدے کے تناظر میں گورڈن براؤن نے وزارت عظمیٰ کے منصب سے مستعفی ہونے کا اعلان کیا۔ بعدازاں ملکہ برطانیہ کے ساتھ باضابطہ ملاقات میں ٹوری پارٹی کے لیڈر کیمرون کو نئی حکومت کی تشکیل کی دعوت دی گئی، جو انہوں نے قبول کر لی۔ اس طرح لیبر پارٹی کی تیرہ سالہ حکمرانی کا اختتام ہو گیا۔

NO FLASH David Cameron bei der Königin Mai 2010

ڈیوڈ کیمرون، ملکہ برطانیہ سے ملاقات کر رہے ہیں

کیمرون نے وزیر اعظم کی رہائش گاہ، 10 ڈاؤننگ اسٹریٹ کے باہر اپنی اہلیہ کے ساتھ ٹوری پارٹی اور لبرل ڈیمو کریٹس کی نئی حکومت کے خدو خال کو واضح کیا۔اپنی تقریر میں انہوں نے برطانیہ میں ایک توانا معاشرے کی تشکیل و تعمیر کی ضرورت پر زور دیا۔ کیمرون نے اپنی نئی حکومت کو ایک مضبوط مخلوط حکومت قرار دیا۔ تینتالیس سالہ ڈیوڈ کیمرون گزشتہ دو سو سالوں میں بننے والے برطانیہ کے کم عمر ترین وزیر اعظم ہیں۔

منگل کی شام تک کنزرویٹو پارٹی کا بھی اجلاس ہوا، جس میں حکومت سازی کی ڈیل پر پارٹی کے اندر اتفاق رائے پیدا کیا گیا۔ اسی طرح لبرل ڈیمو کریٹس کے اراکین پارلیمنٹ کی بھی ملاقات ہوئی، جس میں پارٹی لیڈر نک کلیگ کو ٹوری پارٹی کے ساتھ کی گئی ڈیل پر حمایت کا اظہار کیا گیا۔

برطانیہ میں چھ مئی کے عام پارلیمانی انتخابات کے بعد چار روز کی مسلسل بات چیت کے بعد ترقی پسند جماعت لبرل ڈیمو کریٹکس اور قدامت پسند پارٹی کنزرویٹو کے درمیان نئی حکومت کی بات چیت  کے ادوار مکمل ہو گئے ہیں۔ لبرل ڈیمو کریٹس کے لیڈر نک کلیگ اور ٹوری پارٹی کے لیڈر ڈیوڈ کیمرون کے درمیان منگل کو بالمشافہ بھی ملاقات ہوئی۔

Gordon Brown Rücktritt Mai 2010

وزارت عظمیٰ کے منصب سے سبکدوش ہونے کے بعد، گورڈن براؤن سرکاری رہائش گاہ سے رخصت ہوتے ہوئے اپنی اہلیہ اور بیٹوں کے ہمراہ

لیبر پارٹی اورترقی پسند جماعت کے درمیان حکومت سازی کی راہ میں کئی مشکلات حائل تھیں۔ اس کا اندازہ لیبر پارٹی کے سینئر اراکین کو ہو گیا تھا۔ خاص طور پر ٹیکس اور حکومتی اخرجات پر اتفاق رائے کا کوئی امکان پیدا نہیں ہو سکا تھا۔ اس سے قبل لبرل ڈیمو کریٹس کے اندرونی حلقے بات چیت میں گورڈن براؤن کو بھی ایک رکاوٹ خیال کرتے تھے۔ اس تناظر میں براؤن نے پیر کو پارٹی کی قیادت سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا تھا۔ منگل کی شام لبرل ڈیمو کریٹس اور ٹوری پارٹی کے درمیان حکومت سازی کی ڈیل کو حتمی صورت ملنے کے امکانات کا اندازہ لگاتے ہوئے گورڈن براؤن نے وزارت عظمیٰ کے منصب سے بھی مستعفی ہونے کا اعلان کردیا ہے۔ اپنے مستعفی ہونے کے اعلان میں گورڈن براؤن نے اس بات کا اعتراف کیا کہ وہ اگلی حکومت بنانے کی کوششوں میں کامیابی حاصل نہیں کرسکے تھے۔ انہوں نے اپنا استعفیٰ ملکہ برطانیہ کو پیش کردیا ہے۔ استعفیٰ پیش کرنے کی ملاقات میں سبکدوش ہونے والے وزیر اعظم نے ٹوری پارٹی کے لیڈر ڈیوڈ کیمرون کا نام بطور نئے وزیر اعظم کے پیش کیا۔ گورڈن براؤن نے نئے وزیر اعظم کے لئے نیک تمناؤں کا بھی اظہار کیا۔ انہوں نے لیبر پارٹی کی قیادت سے بھی فوری طور پر علیحٰدگی اختیار کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

رپورٹ:  عابد حسین

ادارت:  ندیم گِل

DW.COM