1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ڈیوس کی رہائی کے بعد بھی دو طرفہ تعلقات متاثر رہ سکتے ہیں، تجزیہ

پاکستان میں امریکی خفیہ ادارے سی آئی اے کے لیے کام کرنے والے ریمنڈ ڈیوس کو اگرچہ طویل کشمکش کے بعد رہائی مل گئی ہے تاہم بہت سے مبصرین کی رائے میں دو طرفہ تعلقات پر اس کے اثرات نمایاں رہیں گے۔

default

پاکستانی صدر آصف زرداری مئی 2009ء میں دورہ ء امریکہ کے موقع پر امریکی صدر اوباما کے ہمراہ

پاکستانی حکام کے مطابق خون بہا کی رقم ادا کرنے کے بعد ڈیوس کی رہائی ممکن ہوئی ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے حکومتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ طویل مذاکراتی عمل کے بعد طے پایا ہے کہ اب پاکستانی خفیہ ادارہ آئی ایس آئی، پاکستان میں سی آئی اے کے اہلکاروں کے داخلے اور ان کے مقامی آپریشنز سے متعلق قوانین سخت تر کردے گا۔ امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کہہ چکی ہیں کہ واشنگٹن حکومت نے ہلاک شدگان کے اہل خانہ کو معاوضہ ادا نہیں کیا۔

اس امریکی شہری کے عمل سے بظاہر چار پاکستانی شہریوں کی ہلاکت ہوئی تھی۔ دو افراد 27جنوری کو ریمنڈ ڈیوس کی فائرنگ سے ہلاک ہوئے، تیسرا اس کی مدد کو آنے والی امریکی سفارتخانے کی گاڑی کی ٹکر سے ہلاک ہوا جبکہ ہلاک شدگان میں سے ایک شخص کی بیوہ نے خودکشی کر لی تھی۔

NO FLASH Pakistan Raymond Allen Davis

ریمنڈ ڈیوس

سیاسی تجزیہ نگاروں کے مطابق اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان بعض معاملات پر پہلے ہی اختلافات موجود تھے اور ڈیوس کے معاملے سے اس میں اور شدت پیدا ہوگئی۔

دی ہیریٹیج فاؤنڈیشن میں جنوبی ایشیاء کے امور کی ماہر لیزا کرٹیس Lisa Curtis کے بقول، ’’اگرچہ دونوں ممالک کے مابین ایک سفارتی تنازعہ فی الحال حل ہوگیا ہے تاہم دو طرفہ تعلقات کو لاحق بنیادی خطرات اب بھی موجود ہیں۔‘‘ اس تناظر میں ایک معمہ یہ بیان کیا جاتا ہے کہ پاکستانی صدر آصف علی زرداری عوامی طور پر غیر مقبول ہیں، بڑی حد تک امریکی مالی امداد پر انحصار کرتے ہیں اور اگر وہ ملک کے اندر بڑھتے ہوئے امریکہ مخالف جذبات کا نشانہ بن گئے تو ان کا سیاسی کیریئر مختصر ہوسکتا ہے۔

واضح رہے کہ رواں سال کے لیے امریکہ کی جانب سے پاکستان کو محض دفاعی مقاصد کے لیے تین ارب ڈالر کی امداد ملنے کا امکان ہے۔

دوسری جانب امریکی صدر باراک اوباما کی انتظامیہ اکتاہٹ کی حد تک اسلام آباد حکومت سے ناراض ہے کہ وہ بعض عسکریت پسند گروہوں کے خاتمے میں ناکام رہی ہے۔

Flash Galerie Demonstration in Pakistan

ڈیوس کو سزائے موت دینے کا مطالبہ کرنے والے ایک مظاہرے کا منظر

ڈیوس کی رہائی کے بعد ایک اعلیٰ پاکستانی حکومتی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ اب اعلیٰ سطح کی دو طرفہ ملاقاتوں کے نئے نظام الاوقات پر کام شروع ہوجائے گا۔ امریکی حکام نے ڈیوس کی رہائی تک ان ملاقاتوں کے معاملے کو التوا میں ڈال دیا تھا۔ اس عہدیدار کے بقول، ’’ باضابطہ طور پر تو ہمیں امید ہے کہ تعلقات ویسے ہی رہیں گے جیسے اس تنازعے سے پہلے تھے مگر طویل المدتی تعلقات پر اس کے اثرات لازمی طور پر رہیں گے، اور دونوں اطراف اعتماد کا فقدان رہے گا۔‘‘

پاکستان کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں کو بھی ڈیوس کے معاملے سے جوڑا جاتا ہے۔ جنوری کے آخری ہفتے میں ریمنڈ ڈیوس کی گرفتاری کے بعد کئی ہفتے تک کوئی ڈرون حملہ نہیں ہوا تھا۔ بین الاقوامی سیاسی و دفاعی امور پر نظر رکھنے والی تنظیم Council on Foreign Relations سے وابستہ ڈینیئل مارکی کے بقول عین ممکن ہے کہ اب پاکستان کے اندر امریکی انٹیلی جنس آپریشنز قدرے محدود ہوجائے۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : افسر اعوان

DW.COM