1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ڈیوس کی رہائی پر شدید احتجاج کیا جائے گا، جماعت اسلامی

ریمنڈ ڈیوس کے معاملے پر پاکستان اور امریکہ کے درمیان تناؤ شدید سے شدید تر ہوتا جا رہا ہے۔ پاکستانی سیاسی فضا کا درجہ حرارت بڑھا دینے والے اس معاملے میں اب مذہبی جماعتیں بھی آن دھمکی ہیں۔

default

پاکستان کی ایک اہم مذہبی پارٹی جماعت اسلامی نے آج منگل کے روز امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ریمنڈ ڈیوس کے معاملے میں غیر ضروری اور غیر قانونی دباؤ ڈال رہا ہے۔ لیاقت بلوچ کے مطابق امریکہ پاکستانی قانون اور عدالتی نظام کی دھجیاں کیوں اڑانا چاہتا ہے؟ جماعت اسلامی کے نائب سربراہ لیاقت بلوچ کے مطابق اگر ریمنڈ ڈیوس کو عدالتی حکم کے بغیر رہا کیا گیا تو بڑے پیمانے پر احتجاج کیا جائے گا۔

امریکہ کی طرف سے پاکستانی حکومت پر ڈیوس کی رہائی کے لیے دباؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ امریکی حکام کا مؤقف ہے کہ ریمنڈ ڈیوس چونکہ ایک سفارت کار ہے لہٰذا ویانا کنونشن کے تحت اسے قانونی استثنیٰ حاصل ہے، اسے نہ تو گرفتار کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی اس کے خلاف مقدمہ قائم کیا جا سکتا ہے۔

In Pakistan inhaftierter US Diplomat Raymond Allen Davis

ریمنڈ ڈیوس کے خلاف مظاہرے کا ایک منظر

دوسری طرف پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق ریمنڈ ڈیوس سفارت کار کی بجائے ایک مشیر ہے لہٰذا اسے مذکورہ استثنیٰ حاصل نہیں ہے۔ اطلاعات کے مطابق پاکستان کے سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی وزارت بھی اسے تنازعے کی نذر ہوگئی ہے کیونکہ وہ اس معاملے پر سخت نقطہ نظر رکھتے تھے۔ قریشی کے مطابق ڈیوس کے معاملے کا فیصلے کرنے کا اختیار عدالت کو ہے۔ ریمنڈ ڈیوس کی فائرنگ سے دو پاکستانی شہریوں کی ہلاکت کے علاوہ ڈیوس کی مدد کو پہنچنے والی قونصلیٹ کی گاڑی کی ٹکر سے ایک تیسرا نوجوان بھی ہلاک ہو گیا تھا۔

UN Pakistan Außenminister Shah Mahmood Qureshi zu Hilfe aus Indien

اطلاعات کے مطابق سابق وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کی وزارت ڈیوس کے معاملے کی نذر ہوئی

اقوام متحدہ کی طرف سے کالعدم قرار دی جانے والی جماعت الدعوة کے ایک ترجمان یحییٰ مجاہد نے بھی ریمنڈ ڈیوس کے معاملے پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ بلاشبہ اسے رہا نہیں کیا جانا چاہیے، ڈیوس نے جرم کیا ہے لہٰذا اسے اس کی سزا ملنی چاہیے۔ مجاہد کے مطابق اگر ڈیوس کو رہا کیا جاتا ہے تو مذہبی جماعتیں ہی کیا، پورا پاکستان اس کے خلاف احتجاج کے لیے اٹھ کھڑا ہوگا۔

تحریک طالبان پاکستان کی طرف سے ڈیوس کی رہائی کی صورت میں پاکستانی حکمرانوں کو دھمکی بھی دی گئی ہے۔ تحریک طالبان پاکستان کے ایک ترجمان اعظم طارق نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر پاکستانی حکمرانوں نے ڈیوس کو امریکہ کے حوالے کیا تو وہ حکمرانوں کو نشانہ بنائیں گے۔ طارق کے بقول اگر پاکستانی عدالتیں انصاف نہیں کر سکتیں تو ڈیوس کو طالبان کے حوالے کیا جائے۔

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس