1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

ڈیوس کپ مقابلوں کی پاکستان سے منتقلی کے خلاف اپیل

پاکستان ٹینس فیڈریشن نے انٹرنیشنل ٹینس فیڈریشن سے ایک اپیل میں اس فیصلے کے خلاف احتجاج کیا ہے کہ ایشیا اور اوشینیا کے لئے ڈیوس کپ کے دوسرے راؤنڈ کے میچ سلامتی خدشات کی بنا پر پاکستان سے نیوزی لینڈ منتقل کر دئے گئے ہیں۔

default

میلبرن کا ٹینس کورٹ

بین الاقوامی ٹینس فیڈریشن نے اس راؤنڈ کی منتقلی کا فیصلہ گزشتہ ہفتے کیا تھا۔ پاکستان ٹینس فیڈریشن کے سیکریٹری رشید خان نے ہفتے کے روز اسلام آباد میں کہا کہ PTF نےITF سے اپنی اپیل میں یہ درخواست کی ہے کہ نیوزی لینڈ منتقل کئے گئے گروپ دو کے یہ ٹائی میچ کسی غیر جانبدار ملک میں کھیلے جانے چاہییں۔

رشید خان کے بقول اس سلسلے میں پاکستان نے اپنی اپیل میں ان میچوں کی میزبانی کے لئے ملائیشیا اور دبئی کے نام تجویز کئے ہیں، تاکہ پاکستانی کھلاڑی یہ میچ نیوزی لینڈ میں کھیلنے پر مجبور نہ ہوں اور حریف ٹیم کو اپنے مقامی کورٹ یا ہوم کراؤڈ کی وجہ سے بھی کوئی فائدہ نہ پہنچے۔

پاکستان کو ڈیوس کپ ایشیا اوشینیا کے گروپ دو کے دوسرے راؤنڈ کے ان ٹائی مقابلوں کی میزبانی نو سے لے کر گیارہ جون تک کرنا تھی۔ پاکستان ٹینس فیڈریشن نے ITF کے نام اپنی اپیل میں یہ مطالبہ بھی کیا ہے کہ یہ میچ پاکستان سے بیرون ملک منتقل کئے جانے کے سبب پاکستان کو مالی تلافی کے لئے ایک لاکھ ڈالر بھی ادا کئے جانا چاہییں۔

Gebet unter Schutzvorkehrungen

پاکستان میں سلامتی کی ناگفتہ صورتحال کے پیش نظر یہ مقابلے نیوزی لینڈ منتقل کئے جارہے ہیں

نیوزی لینڈ میں ٹینس کی ملکی تنظیم ٹینس نیوزی لینڈ نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ وہ ان میچوں کے لئے مقابلے کی جگہ کے حوالے سے اپنا انتخاب کا حق محفوظ رکھتی ہے۔ اس کی وجہ پاکستان میں کھیلوں کے اہم مقابلوں کے موقع پر سلامتی انتظامات کے تسلی بخش ہونے کے سلسلے میں پائے جانے والے خدشات بتائے گئے تھے۔ ٹینس نیوزی لینڈ کے مطابق وہ ان گروپ میچوں کے لئے جگہ کی تصدیق ممکنہ طور پر اگلے ماہ اپریل میں کرے گی۔

ٹینس کے سب سے اہم اور کامیاب پاکستانی کھلاڑی اعصام الحق قریشی نے یہ مقابلے پاکستان سے باہر منتقل کرنے کے ITF کے فیصلے پر ناامیدی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں اس بات پر افسوس ہے کہ وہ گزشتہ تین برسوں سے پاکستان میں ڈیوس کپ کا کوئی ایک بھی میچ نہیں کھیل سکے۔ گزشتہ برس بھی پاکستان کو اپنے میچ اومان اور فلپائین میں کھیلنا پڑے تھے۔

رپورٹ : مقبول ملک

ادارت : شادی خان سیف

DW.COM