1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

ڈیوس کپ: سربیا اور فرانس فائنل میں

ٹینس میں ٹیم ایونٹ میں ڈیوس کپ سب سے اہم ترین ٹورنامنٹ ہے۔ اس میں کھلاڑی انفرادی طور پر نہیں بلکہ اپنے ملک کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ڈیوس کپ صرف مرد کھلاڑیوں کی ٹیموں کے درمیان کھیلا جاتا ہے۔

default

سن 1989: جرمن فاتح ٹیم

سربیا کے دو عالمی شہرت یافتہ کھلاڑیوں نے شاندار پرفارمنس سے اپنے ملک کو ڈیوس کپ ٹورنامنٹ کے فائنل میں پہنچا دیا ہے۔ سربیا کی ٹیم پہلی بار اسی برس دسمبر میں ڈیوس کپ کا فائنل میچ کھیلے گی۔ چیک جمہوریہ کو سربیا کے کھلاڑیوں نے دو کے مقابلے میں تین میچ جیت کر شکست دی۔ دونوں ٹیمیں دو دو میچ جیت کر برابری پر کھڑی تھیں۔ سریبا کے نوجوان کھلاڑی جانکو ٹپسارے وچ کو مرد میدان قرار دیا گیا ہے۔ میچ ختم ہونے پر سربیا کے دوسرے کھلاڑیوں نے ٹپسارےوچ کو کندھوں پر اٹھا کر کورٹ کا چکر لگایا۔

ٹپسارے وچ کی جیت سے سربیا فائنل تک رسائی حاصل کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ فائنل میں اس کا مقابلہ فرانس سے ہو گا۔ فائنل میچ بھی سربیا کے دارالحکومت بلغراد میں کھیلا جائے گا۔ ڈیوس کپ کے فائنل مقابلے اس سال دسمبر کی تین سے پانچ تاریخوں کے درمیان شیڈیول ہیں۔

فرانس کی ٹیم نے دوسرے سیمی فائنل میں ارجنٹائن کو پانچ صفر سے شکست دی۔ ٹینس کے کھیل کے ٹیم ٹورنامنٹ میں فرانس نو بار چیمپئن رہ چکا ہے۔

Triumph der deustchen Tennisprofis im Davis Cup 1989 Flash-Galerie

سن 1989: جرمن ٹینس ٹیم نے ڈیوس کپ کو جیتا تھا۔

فرانس کی ٹیم نے ڈیوس کپ سن 2001 میں آخری بار جیتا تھا۔ فرانس آخری بار کپ کے فائنل میں سن 2002 میں پہنچا تھا اور تب اس کو روس کی ٹیم نے شکست دی تھی۔

سیمی فائنل مقابلے بھی بلغراد میں کھیلے گئے ہیں۔ میچوں کے دوران مقامی شائقین نے اپنے ہم وطن کھلاڑیوں کے لئے زوردار انداز میں داد و تحسین کا سلسلہ جاری رکھا۔ سربیا کے کھلاڑی جوکووچ کے مطابق ان کی کامیابی میں بلغراد کے شہریوں کا بھرپور حصہ ہے۔

چیک جمہوریہ کے خلاف سربیا کی کامیابی میں مشہور کھلاڑیوں نوواک جوکووچ اور جانکو ٹپسارے وچ نے اہم کردار ادا کیا ہے۔ ٹپسارے وچ نے اسی ویک اینڈ پر کھیلے جانے والے سیمی فائنل میں چیک جمہوریہ کے زوردار سروس پھینکنے والے طویل کھلاڑی توماژ بردیخ کو تین سیٹ کے میچ میں ہرایا۔

اس سے قبل ٹپسارے وچ نے چیک جمہوریہ کے سٹیپنیک کو بھی اسی سیمی فائنل میں ہرایا تھا۔ سیمی فائنل مقابلے میں چیک جمہوریہ کی ایک میچ کی برتری کو نوواک جوکووچ نے ایک طویل میچ میں توماژ بردیخ کو شکست دے کر برابر کیا تھا۔ یہ میچ سوا تین گھنٹے تک جاری رہا۔

رواں سال ڈیوس کپ کا دفاعی چیمپئن سپین تھا، جو اپنے اعزاز کا دفاع نہیں کر سکا تھا۔ چیک جمہوریہ کی ٹیم گزشتہ سال فائنل میں سپین سے ہاری تھی۔ امریکہ اس ٹورنامنٹ کا بتیس مرتبہ چیمپئن بن چکا ہے، جو ایک ریکارڈ ہے۔ جرمن ٹینس ٹیم بھی تین مرتبہ ڈیوس کپ جیتنے کا اعزاز رکھتی ہے۔

رپورٹ: عابد حسین

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس