1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ڈیوس کا مقدمہ: عدالت نے حکومت کو مزید وقت دے دیا

لاہور ہائی کورٹ نے جمعرات کو امریکی شہری ریمنڈ ڈیوس کے مقدمے کی سماعت کی، اس دوران حکومت کو جواب داخل کرنے کے لئے 14 مارچ تک کا وقت دے دیا گیا ہے۔

default

ریمنڈ ڈیوس کو عدالت میں لایا جا رہا ہے

عدالت نے یہ بھی کہا ہے کہ ریمنڈ ڈیوس ملک نہیں چھوڑ سکتے جبکہ اٹارنی جنرل پنجاب نے بتایا کہ ڈیوس کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں شامل کر دیا گیا ہے۔

دوسری جانب وزارت خارجہ نے عدالت سے درخواست کی کہ انہیں اس مقدمے میں اپنا جواب داخل کرنے کے لیے تین ہفتے کا وقت دیا جائے۔ مقدمے کی سماعت چودہ مارچ تک کے لیے ملتوی کر دی گئی ہے۔

اُدھر سینیٹر جان کیری نے امید ظاہر کی ہے کہ ریمنڈ ڈیوس کی گرفتاری کے نتیجے میں پیدا ہونے والا تنازعہ آئندہ چند دِنوں میں حل ہو جائے گا۔ بدھ کو پاکستان سے روانگی سے قبل جان کیری نے کہا، ’مجھے امید ہے کہ آئندہ چند دنوں میں کوئی ایسا راستہ نکل آئے گا، جس سے یہ معاملہ حل کیا جا سکے گا۔‘

John Kerry mit Thumbnail

امریکی سینیٹر جان کیری

انہوں نے بتایا کہ پاکستانی حکام سے ان کی ملاقاتیں حوصلہ افزا رہی ہیں اور اس دوران فریقین نے باہمی رضامندی سے معاملہ حل کرنے پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’اب سب کو نیک نیتی سے کام کرنا ہو گا تاکہ اس حوالے سی کی گئی باتوں کو بامعنی بنایا جا سکے۔‘

خیال رہے کہ جان کیری ریمنڈ ڈیوس کی گرفتاری کے نتیجے میں واشنگٹن اور اسلام آباد کے درمیان پیدا ہونے والی محاذ آرائی کے تصفیے کے لیے پاکستان پہنچے۔

امریکی شہری ریمنڈ ڈیوس نے گزشتہ ماہ لاہور میں دو پاکستانی شہریوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا تھا۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ کارروائی اپنے دفاع میں کی۔ واشنگٹن حکام کا کہنا ہے کہ وہ امریکی سفارت خانے کے اہلکار ہیں اور اس لیے انہیں اس نوعیت کے مقدمے سے استثنیٰ حاصل ہے۔ ڈیوس کے مقدمے کی سماعت جمعرات کو ہو رہی ہے۔

دوسری جانب پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے مقتولین کے ورثا کی جانب سے ڈیوس کے لیے معافی کی تجویز پیش کی ہے۔

بدھ کو علماء کے ایک کنونشن سے خطاب میں یوسف رضا گیلانی نے ڈیوس کے لیے سفارتی استثنیٰ کا تعین کرنے میں عدالت کے کردار پر زور دیا ۔

انہوں نے کہا، ’ڈیوس کی طرف سے بھی وکیل عدالت میں پیش ہو رہا ہے، اور اس بات کا فیصلہ عدالت کرے گی کہ اسے استثنیٰ حاصل ہے یا نہیں۔‘

Yusuf Raza Gilani Premierminister Pakistan

پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی

تاہم انہوں نے علماء سے بھی کہا کہ اسلامی قانون کے مطابق اس معاملے کے حل کے لیے مدد کریں۔ اس قانون کے تحت مقتول کے ورثا معاوضے کی ادائیگی پر قاتل کو معاف کر سکتے ہیں۔

گیلانی نے کہا، ’علماء حل بتائیں۔ ورثا کو معافی دینی چاہیے یا قصاص طلب کرنا چاہیے، یا اس بات کا فیصلہ عدالت کو کرنا چاہیے۔ اس میں ہمارا کو کردار نہیں۔‘

انہوں نے علماء کو بتایا کہ حکومت کے لیے مشکل مرحلہ آن پڑا ہے، ایک طرف عوام کا غصہ ہے اور دوسری طرف عالمی دباؤ۔ انہوں نے کہا، ’ہمیں مشکل فیصلوں کا سامنا ہے۔ اس کے لیے سیاسی قیمت دینا پڑے گی۔‘

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس