1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

ڈیوس سی آئی اے کا اہلکار، امریکی ذرائع نے تصدیق کر دی

امریکی حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ ریمنڈ ڈیوس خفیہ ادارے سی آئی اے کا اہلکار ہے۔خبررساں ادارے روئٹرز نے نامعلوم امریکی حکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ڈیوس اسپیشل فورسز کا سابق اہلکار ہے۔

default

امریکہ میں ایک حکومتی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر روئٹرز کو بتایا کہ ریمنڈ ڈیوس پاکستانی شہر لاہور میں ’سیکورٹی افسر‘ کے طور پر کام کر رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ڈیوس بنیادی طور پر محافظ ہے، جس کا کام امریکی سفارت خانے سمیت قونصلیٹ حکام اور پاکستان کے دورے پر گئی ہوئی امریکی شخصیات کو تحفظ فراہم کرنا ہے۔

قبل ازیں برطانوی اخبار گارڈین نے امریکی اہلکار کے سی آئی اے سے تعلق کے بارے میں خبر دی تھی۔ پاکستانی فوج کے خفیہ ادارے ISI کی رائے میں دومقامی شہریوں

In Pakistan inhaftierter US Diplomat Raymond Allen Davis

امریکی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ ڈیوس نے لاہور میں دو مقامی باشندوں کو اپنا دفاع کرتے ہوئے گولی ماری تھی

کے قتل کے الزام میں گرفتار امریکی شہری خفیہ طور پر امریکی انٹیلی جنس سروس CIA کے لیے کام کر رہا تھا۔

دوسری جانب امریکی دفترِ خارجہ نے ایک مرتبہ پھر کہا ہے کہ پاکستا ن کی تحویل میں امریکی اہلکار ریمنڈ ڈیوس کو سفارتی استثنیٰ حاصل ہے، جس کی بنیاد پر اُسے فوری رہا کیا جانا چاہیے۔ امریکی محکمہ خارجہ کی جانب سے یہ بیان عالمی میڈیا میں آنے والی ان رپورٹوں کے کچھ ہی گھنٹوں بعد سامنے آیا ہے، جن میں ریمنڈ ڈیوس کو خفیہ ایجنسی سی آئی اے کا اہلکار قرار دیا گیا تھا۔

امریکی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ ڈیوس نے لاہور میں دو مقامی باشندوں کو اپنا دفاع کرتے ہوئے گولی ماری تھی۔ لاہور میں یہ واقعہ 27 جنوری کو پیش آیا تھا۔ ریمنڈ ڈیوس کی گرفتاری اور اس کے عدالتی ریمانڈ پر بھیجے جانے سے واشگٹن اور اسلام آباد کے درمیان ایک سفارتی بحران پیدا ہو چکا ہے۔گزشتہ ہفتے امریکی صدر باراک اوباما نے ڈیوس کے بارے میں کہا تھا کہ وہ پاکستان میں ہمارے سفارتکار ہیں اور سفارتی عملے کا رکن ہونے کی وجہ سے ڈیوس کو سفارتی تعلقات سے متعلق بین الاقوامی قانون کے تحت پاکستان کے عدالتی نظام سے استثنیٰ حاصل ہے۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: ندیم گِل

DW.COM